Sunday, 14 September 2014

نیا پاکستان بنانے کا کپتانی نسخہ

پاکستان کی بھی کیا قسمت ہے جب سے بنا ہے ایک تجربہ گاہ کی شکل اختیار کرگیا ہے ہر پانچ دس سال بعد ایک نیا تجربہ کیا جاتا ہے لیکن ان تمام تجربوں میں کافی قدریں مشترک ہوتی ہیں آج کل ایک نیا تجربہ 'نئے پاکستان' کے نام سے کیا جارہا ہے اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو احساس ہوتا ہے کہ اس دفعہ 67 سالوں کے تمام تجربوں کو آزمانے کی کوشش کی جارہی ہے قطعہ نظر اس بات کے کہ کون اس تجربے کے پیچھے ہے یہ کس کا نسخہ ہے لیکن اس کو کرنے والی شخصیت کا نام 'عمران خان' ہے جی وہی کپتان جنہوں نے 1992 کا ورلڈ کپ جتایا تھا اگر ان کی باتیں مان لی جائیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شائد وہ گیارہ کھلاڑیوں کی زمہ داریاں انجام دے رہے تھے وسیم اکرم، Inzimam, مشتاق احمد، میانداد وغیرہ باہر بیٹھے میچ دیکھ رہے تھے جی یہ وہی کپتان ہیں جو ہر ٹاک شو اور تقریر میں ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کس طرح شوکت خانم ہسپتال اور نمل کالج بنایا لیکن جب آپ ان کی سیاسی کامیابیوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ 'نیا پاکستان' کی صورت میں ابھی رونما ہونا باقی ہیں لیکن نیا پاکستان بنانے کا نسخہ وہ ہر تقریر اور ٹاک شو میں بتاتے ہیں

1)  نیا پاکستان بنانے کے لئے سب سے ضروری بہترین ٹیم کا چناؤ ہے اور کپتان نے یہ کام بخوبی انجام دیا ہے کپتان نے پاکستان کی تمام پارٹیوں سے رابطہ کیا جو فوجی اور سولین ادوار میں اس ملک پر حکومت کرچکی ہیں ان کے نکالے ہوئے اور دھتکارے ہوئے تمام لوگوں کو اپنی پارٹی میں جگہ دی پھر وہ لوگ جو حالیہ مشرف حکومت میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں ان کو اپنی پارٹی میں شامل کرلیا اور جو چپڑاسی، ڈاکو بچ گئے ان سے اتحاد کرلیا ان میں سے چند غریب اور مسکینوں کے نام پیش خدمت ہیں جو ایک بار پھر ملک کی خدمت کے جزبے سے سرشار ہیں شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، پرویز خٹک، شیخ رشید، چوہدری برادرز، اسحاق خاکوانی، میاں محمود الرشید، علیم خان وغیرہ وغیرہ

2) نیا پاکستان بنانے کی دوسری شرط یہ ہے کہ نئے پاکستان میں صرف کپتان اور اس کی ٹیم سچ بولے گی بلکہ اس بات کا تعین بھی وہ کرے گی کہ دوسرا کون کون سچ بول رہا ہے قطعہ نظر اس بات کے کہ وہ حقیقت میں سچ ہی کیوں نا بول رہا ہو تمام ادارے الیکشن کمیشن، عدالتیں، جیو، پارلیمنٹ الغرض ہر وہ شخص جو کپتان سے اختلاف رائے کرے گا وہ ایک بہت بڑا جھوٹا اور نالائق شخص/ادارہ ہوگا پولیس والوں کو تو نشان عبرت بنا دیا جائے گا جو جو کپتان کے نئے پاکستان کو بنانے میں رکاوٹ ڈالے گا اس کو سرے عام پھانسی لگا دی جائے گی اور اس کام کو کپتان خود اپنے نیک ہاتھوں سے انجام دیں گے

3) نئے پاکستان بنانے کے لئے دہشتگردوں سے ناصرف مزاکرات ضروری ہوں بلکہ شہر شہر ان کے دفاتر قائم کئے جائیں گے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اگر کوئی دہشتگرد فوج یا پھر ڈرون حملے میں ہلاک ہوجائے تو اس کی مزمت کی جائے گی اگر ہوسکے تو ایک آدھ دھرنا بھی دیا جائے گا

4) نسخہ عمرانیات کے نئے پاکستان میں ڈیڈھ کروڑ ووٹ لے کر آنے والے وزیراعظم سے استعفٰی لینا بھی شامل ہے اس کے لئے اپنی بہترین ٹیم، چپڑاسی اور ڈاکوؤں کے ساتھ مل کر آزادی مارچ کرنا پڑتی ہے لندن میں ایک کینڈین نیشنل کے ساتھ سازباز کرنا پڑتی ہے پلان A, B, C, D بنانے پڑتے ہیں ہیں پھر دو کروڑ کے کنٹینر میں بیٹھ کر ایک لاکھ موٹرسائیکل کے جھرمٹ میں اسلام آباد پہنچنا پڑتا ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ اسلام آباد صرف چند ہزار پہنچ سکیں وہاں پہنچ کر روز چن چن کر اداروں پر الزامات لگائے جاتے ہیں اگر اس سے بھی بات نا بنے تو پارلیمنٹ، پرائم منسٹر ہاوس، پاکستان ٹیلی ویژن، جیو کے دفاتر پر حملے کئے جاتے ہیں روز اسٹیج پر کھڑے ہوکر تقاریر کرنی پڑھتی ہیں سول نافرمانی کی تحریک چلانی پڑتی ہے ہنڈی کے زریعے بیرون ملک سے پیسے لانے کی تلقین کی جاتی ہے ملک کی اکانامی کو کھربوں کا نقصان پہنچانا پڑتا ہے پانچ دس ہزار کے مجمعے کو لاکھوں کا بتایا جاتا ہے ہر روز ایک نیا جھوٹ بولا جاتا ہے خطے میں اپنے پارٹنرز کی سبکی کی جاتی ہے کھربوں ڈالر کی انوسٹمنٹ کو قرضہ قرار دیا جاتا ہے اور تو اور اگر پانچ سات سربراہان مملکت کے دورے بھی کینسل کروائے جاتے ہیں اور ان پر فخر کیا جاتا ہے مختلف بہانے پیش کئے جاتے ہیں

5) نسخہ عمرانیات کی روح سے صرف پیرا شوٹ صحافیوں کی سچائی کو لکھا اور پڑھا جائے گا اگر پیراشوٹ صحافی دوچار گھٹیا فلموں کا ہدائت کار بھی رہ چکا ہو تو اس کے کہے کو ایمان کا درجہ دیا جائے گا مخالفت کرنے والے صحافیوں کو سوشل میڈیا ٹیم سے عزت افزائی کرائی جائے گی اور دوچار کی آزادی مارچ کے دوران ٹھکائی بھی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں اگر ایک ٹی وی چینل پر روز پتھراؤ بھی کرنا پڑے تو کوئی مزاحکہ نہیں ہر اس شخص کی سوشل میڈیا پر درگت بنائی جائے گی جو نئے پاکستان کے لئے نسخہ عمرانیات سے متفق نہیں ہوگا ان کو پٹواری، ڈالر خور، راہ، سی آئی اے وغیرہ کے القابات سے نوازا جائے گا اگر اتنے پیار سے بھی نہ مانے تو پھر سیدھی سیدھی گالیاں دی جائیں گی

6)  نیا پاکستان بنانے کے لئے ضروری ہے کہ خیبر میں اپنی حکومت قائم رکھی جائے تاکہ وہاں سے لوگوں کو لانے میں آسانی ہو صبح اٹھتے ہی وزیراعلی تمام ممبران اور وزیروں کو فون کرکے بندے لانے کی ہدائت جاری کریں پھر رات کو حاضرین کو مختلف سنگرز کے نغموں پر رقص کرکے دکھائیں صوبے کے تمام کام ٹھپ پڑے رہیں لیکن وہ وزیراعظم کے استعفیٰ لینے پر بضد رہیں باقی تمام صوبوں اور وفاق کے نمایندے بھی دکھاوے کے لئے استعفے جمع کروائیں لیکن اپنی تنخواہ ٹائم پر لینے پہنچ جائیں سول نافرمانی کی تحریک کے باوجود تمام پارٹی عہدےداران باقاعدگی سے ٹیکس اور اپنے بل جمع کروائیں لیکن غریب قوم کو بل جمع نہ کروانے کی ہدائت جاری کریں تاکہ وہ بیچارے مہینوں میٹر لگوانے کے چکر میں زلیل خوار ہوتے پھریں

7) آزادی مارچ سے پہلے لوگوں کے درمیان رہنے اور کھانے پینے کے وعدے کئے جائیں لیکن غریب عوام کو حبس اور بارشوں کے اس سیزن میں مرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے اور خود دوکروڑ کے کنٹینر میں آرام کیا جائے ٹائم پر کھانے پینے کا بندوبست ہو اور جب دل اکتا جائے تو بارہ چودہ گھنٹے کے لئے دوسو کنال کی چھوٹی سی کٹیا میں ورزش کرنے چلے جایا جائے

8) روز رات کو اپنے مخالفین پر بغیر ثبوت کے الزامات کی بارش کردی جائے تمام اداروں کی سبکی کی جائے مختلف افسران کو بغیر ثبوت کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے دھمکیاں دی جائیں منتخب نمایندوں، ججز، وکلاء، بیوروکریٹ، پولیس افسران، الیکشن کمیشن، نادرا، FIA, صحافیوں وغیرہ کے خلاف بغیر ثبوت کے چارج چیٹ پیش کی جائے سب کو کرپٹ، ٹیکس چور کہا جائے جبکہ آپ کے اردگرد ایسے لوگوں کا ڈھیر لگا ہو حتکہ آپ کی پارٹی کے 82% ممبران ٹیکس ہی جمع نہ کرواتے ہوں اور جو 18% کرواتے ہوں ان میں سے بیشتر کا اتنا کم ہو کہ وہ شرمندگی سے کسی کو بتانے کے قابل نہ ہوں

نوٹ! اس فضول بکواس کو لکھنے والا ایک ڈاکٹر ہے صحافی نہیں ہے اس لئے گالیاں ڈاکٹر کو دی جائیں... شکریہ

Sunday, 3 August 2014

یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟

تبدیلی ایکسپریس کا آغاز 30 اکتوبر 2011 کو مینار پاکستان کے سائے تلے ہوا کچھ لوگ آج تک تبدیلی کا انتظار کررہے ہیں لیکن میرے نزدیک تو تبدیلی آگئی ہے بلکہ تبدیلی تو اسی دن آگئی تھی جب میاں اظہر صاحب نے اپنے سیاسی یتیموں کے ساتھ تبدیلی ایکسپریس میں سواری کرلی تھی جب ہر اتوار کے اتوار نیٹو سپلائی اور ڈرون حملوں پر دھرنے دئیے جاتے تھے لیکن ان دھرنوں کو نیٹو سپلائی کے راستوں سے دور رکھا جاتا تھا تاکہ کنٹینرز کو گزرنے میں کوئی دشواری نہ ہو یہ تبدیلی کیا کم ہے کہ ان دھرنوں سے کنٹینرز کو گزرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی اور رہی بات ڈرون کی تو جناب اب چھوڑئیے کہاں ہم اور کہاں امریکہ بہادر؟  مینار پاکستان کی سحر انگیز تقریر کے بعد تبدیلی لانے کے لئے ساری جماعتوں کے سیاسی یتیم جوک در جوک تبدیلی ایکسپریس پر چڑھنا شروع ہوگئے اور قوم کو یہ بتایا گیا کہ اگر ان لوگوں کو ساتھ نہ ملایا گیا تو الیکشن کون لڑے گا؟ اس مافیا سسٹم کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے ساتھ بڑے مافیا کو ملا لینا تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟  گاؤں گاؤں شہر شہر جاکر ان پولیٹیکل مافیا کو اپنی پارٹی میں ملایا گیا بڑے بڑے جلسے کئے گئے خود سوچئیے اگر ان کو ساتھ نہ ملایا جاتا تو ان جلسوں، ریلیوں اور دھرنوں کا خرچہ کہاں سے آتا؟ مختلف پروگراموں میں جاکر لکھ کردیا گیا کہ میری پارٹی الیکشن سویپ کرے گی جبکہ بلوچستان اور سندھ میں سرے سے الیکشن کمپین نام کی کوئی چیز چلائی ہی نہ گئی اور کروڑوں روپے لگا کر دو جلسے کئے گئے اور ان کو اپنے پاپولر ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا بیشتر سیٹوں پر امیدوار ہی نہ کھڑے کئے گئے یہ تبدیلی نہیں تو کیا ہے؟ قوم کو یہ یقین دلایا گیا کہ لاکھوں تبدیلی رضاکار پولنگ اسٹیشنز پر موجود ہوں گے جو کہ دھاندلی کرنے والوں کو بلوں سے ماریں گے لیکن الیکشن والے دن تمام تبدیلی رضاکار کہاں گئے اس کا آج تک جواب نہیں دیا گیا؟ یہی تو اصل تبدیلی ہے؟ صرف پنجاب سے درجنوں سیٹوں سے آپ کے امیدواروں کی زمانتیں ضبط ہوجائیں ( ان کی تعداد پچاس سے اوپر ہے) متعدد سیٹوں پر آپ کے امیدوار ہی کھڑے نا ہوں لیکن پھر بھی آپ کے ساتھ تاریخی دھاندلی ہوجائے اور آپ الیکشن سویپ کے دعوے بھی کریں؟  آخر یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟ 
چیف الیکشن کمشنر آپ کی مرضی سے لگے جس کی ایمانداری کے آپ چرچے کریں اور اس بیچارے کی مخالفت کے باوجود آپ کی مرضی کے رئٹرنگ آفیسر لگائے جائیں پھر الیکشن ہارنے کے بعد سارا ملبہ چیف الیکشن کمشنر اور رئٹرنگ آفیسر پر ڈال دیا جائے اس غریب چیف الیکشن کمیشنر کی ساری عمر کی نیک نامی کا بیڑاغرق کردیا جائے یہی تو اصل تبدیلی ہے؟
چیف جسٹس افتخار چوہدری کو قوم کا مسیحا قرار دیا جائے قانون کی حکمرانی قائم کرنے والا قاضی کہا جائے اس کے ہر فیصلے کو قانون اور آئین کی بالادستی کے ساتھ جوڑا جائے اس کی بحالی کے لئے تاریخی وکلا تحریک کا حصہ بنا جائے چیف الیکشن کمشنر کی مخالفت کے باوجود افتخار چوہدری سے عدلیہ سے الیکشن کرانے کا فیصلہ لیا جائے بلکہ رئٹرنگ آفیسرز کو تاریخی اختیارات دلوائیں جائیں پھر الیکشن ہارنے کے بعد اسی افتخار چوہدری پر تاریخی دھاندلی اور فراڈ کا الزام عائد کیا جائے؟ جب آپ یہ بتانے سے قاصر ہوں وہی رئٹرنگ آفیسرز خیبرپختون میں بھی تھے وہاں دھاندلی کیوں نہ کرسکے؟ چیف جسٹس کا دست راست جج خیبر کا الیکشن کمشنر تھا وہ دھاندلی سے آپ کو کیوں نا ہرا سکا؟ یہی تو حقیقی تبدیلی ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟
جب آپ قوم کو یہ بھی نہ بتائیں کہ "الیکشن ٹربیونل دھڑا دھڑ آپ کی پٹیشن پر فیصلے سنا رہا ہے بلکہ آپ کی طرف سے پنجاب میں دائر کی گئی بیشتر انتخابی عزداریوں کا فیصلہ ہوچکا جن میں سے ایک بھی آپ کے حق میں نہ ہوا جن پر فیصلہ آنا باقی ہے وہ الیکشن ٹربیونل سے زیادہ امیدواروں کا قصور ہے جنہوں نے عدالتوں سے رجوع کرلیا" ( 41 کے قریب فیصلے آچکے ) جب آپ کہیں کہ ہمیں انصاف نہیں مل رہا تو قوم کو یہ بھی نہ بتائیں کہ ساری دنیا میں انصاف کا یہی طریقہ ہے الیکشن کمیشن جائیں اگر فیصلے سے مطمن نہ ہوں تو عدالت جائیں اگر پھر بھی کوئی کمی رہ جائے تو پارلیمنٹ کے زریعے آئین میں ترامیم کرائیں؟ جب آپ مختلف چینلز اور جلسے جلوسوں میں یہ کہیں کہ حکومت ہمیں انصاف نہیں دے رہی لیکن آپ قوم کو وہ گیدڑ سنگی نا بتائیں کہ حکومت کس طریقے سے دو اداروں الیکشن کمیشن اور عدالتوں کے کام میں مداخلت کرے کہ آپ کو کوئی انوکھا انصاف میسر آسکے جس کے لئے لاکھوں پاکستانی عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں؟  یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟
پاکستان کے سب سے بڑے چینل پر سب سے زیادہ کوریج حاصل کی جائے ان کے ساتھ مل کر سیلاب زدگان کے لئے دنوں تک چندہ مہم چلائی جائے الیکشن والے دن ہسپتال کے باہر سے آپ کے لئے پروگرام کئے جائیں آپ کی تصویر والے اسکارف پہنے لوگ الیکشن والی رات ٹی وی پر آکر بیٹھیں اور ووٹ مانگیں "یورپین یونین کی رپورٹ کے مطابق آپ کی پارٹی کو اس چینل نے سب سے زیادہ کوریج دی جو دو بڑی پارٹیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی" لیکن اچانک الیکشن ہارنے کے بعد آپ کو خواب آئے کہ یہ چینل تو میرے خلاف سازش کررہا تھا؟ جب آپ سخت سوال کرنے پر اینکر کی چینل سے چھٹی کروا دیں جب آپ ایک صحافی کو صرف اس لئے دشمن ڈیکلیئر کردیا ھائے کہ اس نے  سوال اٹھائےل؟  یہ تبدیلی نہیں تو کیا ہے؟
دنیا کے بڑے بڑے ادارے جیسے "یورپین یونین آبزرور، کامن ویلتھ، HRCP, نیپال الیکشن کمیشن، فافن، گیلپ وغیرہ الیکشن 2013 کو تاریخی ریٹنگ دیں پاکستان کی تاریخ کا شفاف ترین الیکشن قرار دیں اور اس کے مقابلے میں الیکشن 2002 اور 2008 کو بدترین ریٹنگ ملے لیکن ان الیکشن کے رزلٹ کو آپ مان لیں لیکن 2013 کے الیکشن کو فراڈ قرار دیں کیونکہ وہ ڈکٹیٹر کے نیچے ہوئے تھے اور یہ تاریخی آئینی اصطلاحات کے بعد"؟ چلیں اپنے پارٹی الیکشن میں ہونے والی تاریخی دھاندلی پر ہی کوئی ایکشن لیا ہوتا جب جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے پوری پارٹی پر قبضہ کرلیا؟ لیکن اگر یہ سب کچھ کر لیتے تو تبدیلی کیسے آتی ؟
جن لوگوں کو آپ نیشنل ٹی وی پر آکر چپڑاسی کا درجہ دیتے ہوں اور کہیں کہ اللہ نہ کرے کبھی آپ کو ان جیسی سیاست کرنی پڑے جن لیڈروں کو آپ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ڈیکلیئر کریں لیکن اپنے پولیٹیکل benefit کے لئے ان کے ساتھ ہاتھ ملا لیں اس سے بڑی تبدیلی کیا کبھی آپ نے دیکھی یا سنی؟ 
یہ جانتے بوجھتے کہ ووٹوں کی thumb verification جعلی سیاہی کی وجہ سے ناممکن ہے اور اس حکومت کا اس کرپشن سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا جواب چئیرمین نادرا، الیکشن کمیشن یا پھر PCISR کے پاس ہے کہ آخر کس کی غلطی ہے کون کون کرپشن میں حصہ دار ہے؟ لیکن جانتے بوجھتے سارا الزام منتخب حکومت پر ڈال دو اپنے پولیٹکل فائدے کے لئے؟ جب آپ کو پتہ ہو کہ نگران سیٹ اپ پورے ملک میں پیپلزپارٹی کی مرضی کا آیا لیکن پھر بھی آپ منتخب حکومت پر 35 پنکچر کا الزام لگائیں اور وعدہ کے باوجود دھاندلی ٹیپ غریب عوام سے شئیر نہ کریں؟ یہ تو چھوڑیں فوجی بریگیڈئر پر دھاندلی کا الزام لگایا جائے اور لیکن اس بریگیڈئر کا نام صیغۂ راز میں رکھا جائے؟  یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟
لاکھوں ووٹ لینے کے باوجود بلکہ ووٹوں کے اعتبار سے پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہونے کے باوجود مسائل کو پارلیمنٹ میں حل کرنے کی بجائے سڑکوں پر حل کرنے کی ٹھان لی جائے اپنے ووٹر کو یہ نا بتایا جائے کہ اگر ایک دو لاکھ لوگ پارلیمنٹ کے سامنے بٹھانے سے مسائل حل ہوں گے اور منتخب حکومتوں کو چلتا کرنے کی روائت نے جنم لے لیا تو یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا؟ جب آپ یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ ان بیچارے کاروباری حضرات اور شہریوں کا کیا قصور جو دنوں تک آپ کے دھرنے سے ذلیل ہوں گے اور کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کریں گے؟  کل کو کوئی بھی گروہ یا پھر سیاسی پارٹی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے اور کہے کہ مطالبات ماننے تک نہیں اٹھیں گے تو پھر اس مملکت خداداد کا کیا انجام ہوگا؟ سب سے بڑھ کر ان لوگوں کا کی قصور جنہوں نے آپ کو لاکھوں ووٹ دئیے تاکہ آپ ان کے مسائل حل کروانے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالیں؟  سارے سوالوں کا جواب جانتے ہوئے بھی جواب نہ دینا تو اصل تبدیلی ہے؟
جب آپ ٹی وی چینل پر آکر خود یہ مانیں کہ آپ کے جیتے ہوئے صوبے میں انوسٹمنٹ کم ترین سطح پر ہے حالانکہ الیکشن سے پہلے آپ نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ آپ کی حکومت آتے ہی اوورسیز پاکستانی اپنے خزانوں کے منہ کھول دیں گے؟ جب آپ خود مانیں کہ خیبر میں سکولوں کی حالت بری ہے آپ کچھ نہیں کرسکے؟ ڈویلپمنٹ فنڈ استعمال ہی نہ ہوسکا؟ حالانکہ آپ نے تو خود کہا تھا کہ تمام پالیسی پیپر تیار ہیں؟ ملک کی سب سے اچھی ٹیم آپ کے پاس ہے لیکن پھر دوسری ہی سانس میں یہ بھی مان گئے کہ حکمران جماعت کی ٹیم ہماری پارٹی سے زیادہ تجربہ کار ہے؟ زرعی صوبہ ہونے کے باوجود اس کی زراعت کا برا حال ہو؟ وعدے کے مطابق بلدیاتی الیکشن کا چودہ مہینے کے بعد بھی کوئی اتا پتہ نہ ہو؟  یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟
جب ہر اس شخص، صحافی یا پھر میڈیا ہاوس کو جو آپ پر تنقید کرے یا پھر آپ کی سیاست سے متفق نہ ہو کو 'امریکی ایجنٹ' ڈالر خور'  'غدار' 'حکومتی ایجنٹ' 'بکا ہوا' کہا جائے؟ جب آپ کے ہزاروں سوشل میڈیا جہادی آپ سے سیاسی اختلاف کرنے والوں کی تکا بوٹی کردیں گالیوں کے سمندر میں آپ کے مخالفوں کو بہانے کی کوشش کی جائے؟ میری سمجھ سے باہر ہے کہ اور کس طرح کی تبدیلی آپ لوگ چاہتے ہیں؟
جب ملک میں کوئی بے اطمینانی نہ ہو، قوم حکومت کو وقت دینے کو تیار ہو باوجود اس کے حکومت کی کاکردگی بھی کوئی توپ قسم کی نہیں ہے لیکن امید کی ایک کرن ہو کہ شائد پانچ سال ملیں تو یہ حکومت اچھا پرفارم کرپائے؟ جب انٹرنیشنل ادارے بھی اکانامی کے بارے میں کچھ اچھی خبریں سنا رہے ہوں، پورا ملک دہشتگردی کی جنگ میں لگا ہو، آپ کے صوبے میں دس لاکھ IDP بیٹھے ہوں لیکن آپ کا زور وفاقی حکومت کو گرانے پر ہو، جب دس سال تک ملک میں دہشتگردی کرنے والوں کی آپ حمائت کرتے رہے ہوں جنہوں نے ہزاروں لوگوں کو شہید کیا ہو آپ اب بھی ان سے مزاکرات کے لئے تیار ہوں لیکن حکومت سے مزاکرات سے انکاری ہوں؟ یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟

Sunday, 20 July 2014

Crumbling Institutions

                                                              Crumbling Institutions

Strong and Vibrant institutions build a healthy and a Democratic state where some injustices can always occur but large majority of people enjoy rule of law and basic facilities of life. Look at our neighborhood India who despite contributing 33% to world poor,  stories of rampage corruption, falling very high on TIP corruption index, more than half of their population living below poverty line, enjoying uninterrupted democracy and continuation of system, suffers from long hours of Load Shedding unlike Pakistan where democracy already been  interrupted four times but with all these injustices in India one talk about Inquilab, Tsunami March, Dictators etc.  Do we ever wonder why it is so?  The answer to the question is very simple that they developed institutions which work independently and freely without any strings attached to their performance, just look at their CBR, can raid any influential figures house anytime and nobody dare argue with their power, their election commission work independently without being tool of a particular party or Mafia No one ever raised an eyebrow on their performance, you hardly see any Dhandli rhetoric after elections.. Their Parliament can question people which is almost a punishable act in our land of pure, their court's hardly been accused of tilting towards different groups, list is endless. 

So question is what went wrong in our country? Why couldn't we build institutions leading to a  dynamic and spirited society? One argument may be that we were struck with Marshall Laws decades after decades so democracy were never allowed to take it's root and there was not enough time to assemble efficient systems? Yes dictators and Kingdoms thrive and feed on week systems, example are in abundant in our Muslim countries Egypt, Iraq, Libya, Saudia etc but weak systems have finally taken it's tool on them, mostly are struck with civil war in their countries, hundreds of Muslims dying daily, reaping the rewards of their rulers, stuck in a battle which they never wanted, going trough a turmoil and agonising era of destruction!!!!
Now let's come back to our country, let's not talk about the unprecedented damage caused by respective dictators or horrendous last five years of civilian democracy, let's talk about last 13 month's of this government, did they even remotely tried to lay foundation of institutions? The answer is loud and clear NO  !!!
Now let me explain why I say that this government is no different than the previous rulers as far as building institutions despite the claims that there are no mega scandals in last 13 months as we have seen in last era, despite claims of initiating mega projects which this country never witnessed before,  even if we admit to these fact but does this made a common man's  life more easier? The answer is again a big NO.
Just look around how many institutions are either run by a non-existent Head or very least an Acting Head or Head with political affiliation? So how on earth a sane person can even remotely think of building a institution?  Election Commissioner resigned soon after the GE, Where is the new chairman? Had this government acted promptly and appointed an honest head under newly amended  constitution, they might have averted the crisis they are facing right now from opposition Azadi March?  But more importantly they would've laid foundation of a institution, the permanent chairman would've got ample time to fix this mess before the next GE. Similarly Nadra head was removed in a bizarre fashion, again a key person that would've avoided the mess the government is in right now. Let's suppose for a minute that he was rightly removed but where the hell is the new Nadra Chairman?  Chairman PCB post has become a laughing stock in fact let me put it that way an embarrassment for the whole Nation, Key members of ICC snub our Chairman during the meetings.. The post has become a social media joke in Pakistan. Another example is Chairman PEMRA, Last few months we have seen the worst of Pakistan Media, different Media house's hurling allegations against each other of bizarre nature even the charges of blasphemy against few channels. Now you honestly tell me if we had a Strong and prudent Pemra body with a honest and upright chairman heading it, most of this dirt and filth against each other would've been stopped from the very beginning had there been a powerful PEMRA body headed by a strong willed chairman and culprits would've been punished there and then. Countless examples can be quoted here, boards of Pepco still not complete, different organisations waiting for their heads, just recently State Bank head appointed while all important SECP Chairman post still vacant.

Now let me compare this ineptness with few organisations where heads been appointed timely, now they are giving good results though still far far away from excellence, examples are PTA Chairman who just recently completed a successful 3/4 G auction, not a finger been raised on the process in fact every newspaper and critic was appreciative of the effort. Other example is Head of Privatisation Zubair Ahmad who has done a remarkable remarkable job, kick starting the privatisation after years of delay, completing highly successful initial transactions of UBL, PPL in fact fetching higher prices than the base price asked by Government. Now planning to privatise 9 different organisation, this year expected to fetch 2.5-3 billion dollar money to National Exchequer. Similarly Railway Minster assembled an excellent team with efficient Railway Chairman and Board Of Directors all from Railway we can witness the results, revenue touched 25.5 billion rupees in 2013-14.

So in a nutshell Germany and Japan rose from ashes after War when their countries were brought down to the ground by madness of War, we must ponder, Why Germans became the largest economy of Europe?  Why Japan is second largest economy of Asia? Answer is very simple they have built efficient systems backed by robust institutions. Democratic rulers often complain about dictators interfering and derailing democracies but what they fail to understand that if not largely it is partly their fault as well they rule in a colonial fashion, never let institutions grow, never give them that freedom so they can work independently without strings and interference. Rulers must understand these institutions once built will automatically come to their rescue once dictators try to topple their regimes but at the same time a strong institution wouldn't be part of their corrupt practices so it's a knife edge our rulers sooner or latter had to decide the fate of this bruised and battered Nation which is a victim of successive dictatorial regimes and democratic regimes working in the mask of dictators!

Saturday, 24 May 2014

میٹرو سیاست

پاکستان کی بدقسمتی کہیے یہ پھر curse جہاں دنیا میں ترقیاتی کاموں کے لئے مختلف ریاستوں کے درمیان ایک مقابلہ ہوتا ہے میگا پراجیکٹس سے ملک کی ترقی اور تنزلی کا اندازہ لگایا جاتا ہے وہاں پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے جب بھی ترقیاتی کام شروع ہوتے اس کو حکومت وقت کی ٹانگیں کھینچے کا موقع سمجھا جاتا ہے سالوں بعد پاکستان میں میگا پراجیکٹس کی بنیاد رکھی جارہی ہے موٹروے، ڈیمز، بڑے بجلی گھر، ریلوے لنک وغیرہ شامل ہیں ان بدقسمت منصوبوں میں سے ایک اسلام آباد- راولپنڈی میٹرو بس سروس ہے جس کی مخالفت کرنے والوں میں اسد عمر صاحب بھی شامل ہیں جو پاکستان کے سب سے مہنگے executive رہ چکے ہیں اور اپنی فرم کو ملٹی بلین ڈالر empire بنانے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے لیکن جب سے سیاست میں آئے ہیں ہر منصوبے اور حکومت کی ہر اکنامک پالیسی کی مخالفت اپنا سیاسی فریضہ سمجھتے ہیں

میٹرو بس سروس جس کا آغاز برازیل میں 1974 میں ہوا اب دنیا کے 166 شہروں میں انتہائ کامیابی سے کام کررہی ہے تقریباﹰ 27-30 ملین لوگ روزانہ اس پر سفر کرتے ہیں مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سروس کیونکہ کم لاگت میں تیار ہوجاتی ہے اس لئے سب سے زیادہ Latin America کے شہروں میں چلتی ہے اگر اسد عمر کی لاجک سے چلا جائے تو پھر تو یہ ملک پہلے امیر ہونے کا انتظار کرتے رہتے اور  پھر لاکھوں لوگوں کے سفر کا انتظام کرتے؟ 

میٹرو پہلے ہی لاہور شہر میں انتہائ کامیابی سے چل رہی ہے جہاں ہر روز تقریباﹰ  ایک لاکھ تیس لوگ اس پر سفر کرتے ہیں اور لاکھوں سٹوڈنٹس، مزدور، نوکری پیشہ لوگ صرف 20 روپے میں اپنی منزل پر پہنچتے ہیں کیا اسد عمر صاحب جانتے ہیں کہ کتنا ٹائم بچتا ہے؟ کتنے لوگ حادثوں سے بچتے ہیں؟ اس غریب ملک کے کتنے کروڑ ماہانہ پٹرول کی مد میں بچتے ہیں؟   اسد عمر صاحب جانتے ہیں کہ ایک زمانے میں ان کے لیڈر اسے جنگلا بس کہتے تھے کیا حال ہوا لاہور میں ان کی پارٹی کے ساتھ؟  کیا اسد عمر صاحب جانتے ہیں تب بھی بڑے الزام لگے کہ اس پر 80 ارب خرچ ہوں گے؟ کسی نے کہا 76 ارب خرچ ہوں گے؟  لیکن یہ صرف 28-30 ارب میں مکمل ہوگئی کیا اسد عمر صاحب نے اپنے لیڈر سے پوچھا کہ ان الزامات کا کیا ہوا؟ کیا اسد عمر صاحب جانتے ہیں کہ ایسا منصوبہ ترکی جیسے ملک میں مکمل ہونے میں 27-30 مہینے لگے؟  کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ترک لیڈر اس منصوبے کے افتتاح کے لئے پاکستان آئے تو صرف دس مہینے میں اس منصوبے کے مکمل ہونے پر دنگ رہ گئے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس غریب قوم کے اس مد میں کتنے ارب بچ گئے؟

اب آتے ہیں اسلام آباد - راولپنڈی منصوبے کی طرف جو کہ پاکستان کے دو بڑے شہروں کو ملانے جارہا ہے اس کی لاگت کا تخمینہ 44 ارب روپے لگایا گیا ہے تقریباﹰ 140-150k لوگ روزانہ اس سہولت سے مستفید ہوں گے  اب ایک دفعہ پھر اس منصوبے کو دس مہنیے میں مکمل کرنے کی ٹھانی گئی ہے اس پر دن رات کام شروع ہوگیا ہے اور اندازوں کے مطابق ایک دفعہ پھر یہ ریکارڈ مدت میں مکمل ہوجاۓ گا جو کہ ایک اعزاز ہے پنجاب حکومت اور پاکستان کے پاس اتنی قلیل مدت میں منصوبے مکمل کرنے کا

آئیے اب اعتراضات کی طرف سب پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ ایک غریب ملک اس عیاشی کو افورڈ نہیں کرسکتا اس رقم کو ہیلتھ اور ایجوکیشن کے منصوبوں پر خرچ کرنا چائیے جناب 18 ترمیم کے بعد ہر صوبہ اپنے وسائل استعمال کرسکتا ہے کس نے روکا ہے اسد عمر صاحب کی پارٹی کو کہ اپنے وسائل اپنی مرضی سے استعمال کرے؟ پنجاب تو پہلے ہی اپنے بجٹ کا کثیر حصہ ہیلتھ اور ایجوکیشن پر خرچ کررہا ہے کیا ابھی کچھ دن پہلے کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کی شرح خواندگی 80% پر پہنچ گئی اور KPK کی گزشتہ برس 2% اور کم ہوکر 62% پر آگئی ہے اسد عمر صاحب جانتے ہیں کہ میگا پراجیکٹس شروع کرنے سے سالوں بعد LSM نے پرفارم کرنا شروع کیا ہے اور 5% سے زیادہ گروتھ ہے؟ سیمنٹ dispatches میں رواں سال 7% کے قریب اضافہ ہوا؟ کیا جناب جانتے ہیں کہ سالوں بعد پاکستان میں بڑی گاڑیوں کی صنعت فروغ پارہی ہے جس میں ٹرک، لوڈر، بسیں وغیرہ شامل ہیں؟ کیا جناب جانتے ہیں کہ لاکھوں لوگ construction کی صنعت سے وابستہ ہیں اور درجنوں انڈسٹریز اس سے منسلک ہیں؟ کیا اسد عمر صاحب نے کبھی "کمیٹی چوک سے فیض آباد" سفر کیا ہے جہاں پر دھوئيں اور شور شرابے کا ایک سیلاب ہے؟ اس روٹ پر چلنے والی ویگن پر بیٹھ کر سفر کرنے سے بندے کا پورا جسم اکڑ جاتا ہے؟ بندہ صبح صبح اتنا جھنجلا جاتا ہے کہ دفتر یہ پھر سکول کالج پہنچتے تک آدھا خرچ ہوجاتا ہے؟ کتنے ہی ماؤں کے چشم و چراغ ایکسیڈنٹ کی نظر ہوجاتے؟ گھر کا زیادہ تر بجٹ کرایوں میں ہی خرچ ہوجاتا؟

ایک اور اعتراض کہ اس میٹرو کا اسلام آباد سیکشن آپ 8 ارب میں مکمل کرسکتے ہیں جس کے لئے آپ ایشین ڈویلپمنٹ بنک رپورٹ کا حوالہ بھی دیتے ہیں جناب کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ یہ منصوبہ آٹھ ارب میں KPK میں مکمل کرتے جہاں حال ہی میں 630 ملین ڈالر کی لاگت سے ٹرین چلانے کا MOU کیا گیا کیا KPK جیسا غریب صوبہ اس کو افورڈ کرسکتا؟  کیا KPK میں آپ لاہور طرز کی ٹرانسپورٹ کمپنی پہلے لانچ کرتے تو زیادہ بہتر نہ ہوتا جس کے زریعے پہلے صرف بس سروس کا کیا جاتا؟   کیا اتنے زیادہ پیسے جنگ زدہ صوبے کے ٹرین سروس میں جھونک دینا انصاف ہے؟  کیا ہزاروں تباہ شدہ سکول پہلے تعمیر نہیں ہونے چائیے؟ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ پہلے آپ KPK کو ہیلتھ اور ایجوکیشن میں پنجاب کے قریب لانے کی کوشش کرتے پھر کچھ اور سوچتے؟  کیونکہ لاہور اور راولپنڈی میں درجنوں ہسپتال اور یونیورسٹیاں ہیں بلکہ یہ کہنا چائیے کہ پاکستان کی بہترین facilities یہاں موجود ہیں

آخر میں یہ الزام کہ میٹرو کا اسلام آباد سیکشن آٹھ ارب میں بن سکتا تھا پھر چوبیس ارب کیوں خرچے جارہے ہیں؟  میں اسد عمر صاحب کو کہوں گا کہ فوراﹰ  کرپشن کا یہ میگا اسکینڈل لے کر سپریم کورٹ کا رخ کریں اور ن لیگ کو ایکسپوز کردیں جس طرح یہ پارٹی پیپلزپارٹی کے خلاف کئی کیسسز لے کر سپریم کورٹ گئی تھی؟ پھر ایک بہت بڑے ماہر معاشیات شیخ رشید کا الزام ہے کہ لوگوں کے کاروبار تباہ ہوگئے لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے؟ لیکن جناب ابھی تک کتنے جلوس نکلے اس کے خلاف؟  جہاں تک کاروبار کی بات ہے تو لاہور میٹرو نے ثابت کیا کہ یہ ساری وقتی مسائل ہوتے ہیں اب شیخ صاحب لاہور آکر دیکھیں کس طرح لوگ خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں؟

سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اس بات پر روتے نظر آتے ہیں کہ میٹرو پر construction work کی وجہ سے وہ دفاتر سے لیٹ ہوجاتے ہیں ان کی بڑی بڑی گاڑیاں ٹریفک میں پھنس جاتی ہیں ایک برگر نے تو ایک اخبار میں بلاگ بھی لکھ ڈالا کہ کیونکہ اسلام آباد میں بیشتر لوگوں کے پاس گاڑیاں ہیں پھر میٹرو کی کیا ضرورت؟ 

سب سے بڑا مسلہ جو اس منصوبے کے ساتھ منسلک ہے وہ میرے خیال میں ماحولیات کا ہے اسد عمر صاحب اور شیخ رشید صاحب کو چائیے تھا کہ دن رات ایک کردیتے ایک ایک کٹے ہوئے درخت بچانے کی کوشش کرتے لیکن ہائے ری قسمت اس سے لوگوں کی سانس تو بہتر ہوگی لیکن سیاست کو کیا فائدہ ہوگا؟ 

Sunday, 11 May 2014

کیونکہ میں کہتا ہوں دھاندلی ہوئی؟

مئی 2013 کو کروڑوں پاکستانی مہنگائی، دہشتگردی لوڈشیڈنگ کے خلاف گھروں سے نکلے اور اپنی اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ ڈالے اس آس اور امید کے ساتھ کہ اب ہمارے مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا ان اندھیروں سے جان چھڑانے کے لئے ساری جماعتیں سرجوڑ کر بیٹھیں گی لیکن ہائے ری قسمت جب قوموں کا ٹائم ہی خراب چل رہا ہو تو اچھائی کی بس امید ہی کی جاسکتی ہے
ایک دفع پھر وہی پرانی کہانی دہرائی جارہی ہے اس دفعہ دھاندلی کو بنیاد بنا کر جہموریت کا بوریا بستر گول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یا اب تک کے events سے تو یہ ہی تاثر ابھر رہا ہے کپتان صاحب بعضد ہیں کہ میرے ساتھ دھاندلی ہوئی یا یوں کہیے کیونکہ میں کہہ رہا ہوں اس لئے دھاندلی ہوئی چلیں آئیے دیکھتے ہیں کہ کپتان کی دھاندلی راگنی میں کوئی جان بھی ہے یا پھر پس پردہ وہی قوتیں ہیں جو قوم کی خدمت کرتے کرتے تھکتی ہی نہیں
اس بات سے کس کو اختلاف ہوسکتا ہے کہ ادارے مظبوط ہوں اور پاکستانی عوام نے کپتان کو اتنی طاقت دے کر اسمبلی میں بھیجا ہے کہ وہ ایک مظبوط اور آذاد الیکشن کمیشن کی جنگ لڑسکتا ہے تاکہ جو کمیاں 2013 کے الیکشن میں رہ گئی وہ دہرائی نہ جاسکیں لیکن شک و شہبات تو اس وقت جنم لیتے ہیں جب مولانا طاہر القادری چوہدری شجاعت، پرویز الہی اور شیخ رشید جیسے درباری آپ کی صفوں میں گھس آتے ہیں پوری قوم کو پتہ ہے کہ کس دربار کے درباری ہیں ڈر اس وقت لگتا ہے جب ایک سال بعد اچانک آپ کو خواب آتا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ہاؤس اور چیف جسٹس پاکستان نے آپ کے خلاف سازش کی آخر اچانک ایسا کیا ہوا کہ آپ نے ان اداروں پر چڑھائی کردی؟؟ کیا یہ بات تو نہیں کہ آج کل وہ میڈیا ہاوس زیر عتاب ہے نادانستہ طور پر بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال بیٹھا اور اب آپ کسی کہ اشارے پر سزا دینے پر تل گئے؟  کہاں گیا آپ کا دوست حامد میر جو چھ گولیاں کھا کر بستر پر لیٹا ہوا ہے لیکن آپ کے کان پر جوں تک نہ رینگی؟
چلیں ساری سازشی تھیوری چھوڑ کر الیکشن 2013 کو دیکھ لیتے کہ ایسی کیا دھاندلی ہوئی کہ آپ کا مینڈیٹ چوری کرلیا گیا بقول آپ کے؟
جناب آپ کی مرضی سے الیکشن کمشنر اور نگران سیٹ اپ کا انتخاب ہوا اور مزے کی بات ہے صرف پنجاب میں حقیقی مشاورت کی گئی جس پر آپ نے مہر لگائی آپ کے کہنے پر افتخار چوہدری نے judicial officers کو RO لگایا حالانکہ کہ الیکشن کمیشن نے اس کی شدید مخالفت کی پاکستان اور بیرون ملک سے ایک بڑی تعداد میں مبصرین نے انتخابی عمل کی نگرانی کی اور by and large اس الیکشن کو شفاف قرار دیا چلیں آپ کی بات مان لیتے ہیں اور Fafen رپورٹ کو ہی دیکھ لیتے ہیں جس میں انتخابی بے ضابطگیوں کا ذکر ہے لیکن کہاں یہ کہا گیا کہ یہ الیکشن آپ سے چھین لیا گیا؟  بلکہ Fafen نے تو الیکشن کو صاف شفاف بنانے کے لئے سیاسی جماعتوں کے درمیان dialogue پر زور دیا اور الیکشن کمیشن کو آذاد اور خودمختار بنانے کے لئے آئینی اصطلاحات کا ذکر کیا
آپ نے جیو اور چیف جسٹس پر الیکشن دھاندلی کا الزام دھر دیا ان دونوں کا دھاندلی سے دور دور تلک کوئی تعلق نہ تھا حالانکہ آپ کے الزامات کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ دھاندلی تو ہوئی لیکن آپ کو لیڈر بنانے کے لئے.....
آپ کہتے ہیں عدالتوں اور الیکشن کمیشن نے آپ کی بات نہیں سنی اور آپ کی 64 کے قریب petition الیکشن کمیشن میں پڑی ہیں پہلی بات تو جناب قوم کو یہ بتا دیں کہ کس قانون کے تحت سپریم کورٹ آپ کو relieve دے؟ ؟ دوسری بات یہ الیکشن کمیشن کے مطابق election tribunal نہائت ایمانداری سے کام کررہے ہیں بلکہ آپ کے ہارے ہوئے امیدوار اب تک ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے؟ الیکشن کمیشن کے مطابق 16 کے قریب حلقوں میں thumb impression چیک ہورہے ان کی بات میں وزن بھی لگتا کیونکہ ان گنت انتخابی عذر داریوں کا فیصلہ ہوچکا کئی امیدوار جعلی ڈگریوں اور بوگس ووٹوں کی زد میں آچکے.... ہری پور، شکارپور، حافظ آباد، خوشاب، نارووال وغیرہ  اور تو اور چوہدری غلام سرور اور  شیخ اکرم جن کو الیکشن tribunal نے نااہل قرار دیا لیکن عدالتوں نے انہیں انصاف دیا
خان صاحب کیا آپ نے جہانگیر ترین سے یہ پوچھنے کی زحمت کی کیا وجہ ہے اتنے واویلے کے باوجود وہ دھاندلی کیوں نہ ثابت کرسکا؟ کیوں تین بار recounting کے باوجود جناب ہار گئے؟ کیوں ابرارالحق صاحب دھاندلی کا ایک ثبوت پیش نہ کرسکے؟ جناب کیا آپ قوم کو بتائیں گے کہ صرف پنجاب میں 50 سے زیادہ قومی اسمبلی کی نشستوں پر آپ کے امیدواروں کی ضمانتیں ظبط ہوگئیں اور کچھ پر تو آپ نے امیدوار ہی کھڑے نہیں کئے؟  اس طرح کی ان گنت مثالیں ہیں
پھر آپ نے کہا کہ 120 دن میں الیکشن tribunal پر فیصلہ کرنا لازم ٹہرا؟ نہیں جناب ان کی مدت میں چھ ماہ تک اضافہ پھر سال تک اضافہ ممکن ہے اگر ضرورت پڑے تو ججز جو ایک سال کے معاہدے پر لگائے گئے ان کی ملازمت میں توسیع کی گنجائش ہے قانون میں
حضور والا مشرف اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ بھی 2007 میں الیکشن والے دن دھاندلی نہ کرسکا کیونکہ الیکشن والے دن دھاندلی تو خون خرابے اور قتل و غارت کے سوا کچھ نہیں ہر جماعت کا پولنگ ایجینٹ موجود ہوتا جو ہر پولنگ اسٹیشن پر موجود ہوتا جو پولنگ ختم ہونے کے بعد اپنی نگرانی میں گنتی کرواتا presiding officer کے دستخط لیتا پھر RO کے پاس جا کر تمام پولنگ اسٹیشن کے رزلٹ compile ہوتے آپ کے امیدوار کی موجودگی میں،  تو پھر دھاندلی کہاں ہوئی؟ حضور والا ضرور آپ کے پاس الیکشن والے دن ہزاروں انتخابی عذر داریوں کے انبار ہوں گے؟؟ ضرور آپ کے امیدواروں نے اپنے اجتجاج ریکارڈ کروائے ہوں گے؟  ضرور آپ کے لاکھوں تبدیلی رضاکاروں نے بلے مار مار کر کرپٹ آفیسرز کی بینڈ بجا دی ہو گی جس کا وعدہ آپ نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں کیا تھا؟
چلیں حضور والا قوم کو یہ ہی بتادیں کہ الیکشن کمیشن، افتخار چوہدری، جیو اور ملٹری انٹیلجنس سارے مل کر بھی فاٹا، سندھ، KPK, بلوچستان، ملتان، پنڈی اسلام آباد  میں تو دھاندلی نہ کرسکے لیکن پنجاب میں آپ کے خلاف محاز بنا لیا گیا وہ بھی چار سیٹوں پر؟؟
حضور والا اب کیا کیا جائے سارے حقائق جاننے کے بعد آپ سے متفق ہونے کہ سوا کوئی چارہ نہیں رہا اس میں کوئی شک نہیں کہ 'آپ کے ساتھ دھاندلی ہوئی کیونکہ آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کہ ساتھ دھاندلی ہوئی'  !!

Monday, 28 April 2014

لیکن اس سے غریب کا کیا فائدہ؟

آج کل پاکستانی قوم کا عجیب و غریب ذہن بن گیا ہے اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں سے بھی پاکستان کی اچھائی کا کوئی پہلو شئیر کرو تو ایسی ایسی تاویلیں دیتے ہیں کہ بندہ سر پکڑ بیٹھ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ ہم کس قسم کی قوم بن گئے ہیں اپنے ہمسایہ ملک انڈیا کی مثال لے لیں کس طرح اپنی تمام تر نالائقی اور کوتاہیوں کے باوجود Shining India کا نعرہ دنیا کے کونے کونے پھیلا دیا میرے لندن قیام کے دوران کچھ انڈین ڈاکٹرز سے ملاقات رہی آپ سن کر حیران ہوں گے اپنے ملک کو اس طرح بڑھا چڑھا پیش کرتے کہ جیسے کوئی ترقی یافتہ ریاست ہو اپنے شہروں، ریلوے کے نظام، IT کی کامیابیوں، Bollywood کا ذکر چاہے کوئی بات ہو ان کی اپنے ملک کے ذکر پر آنکھیں بھر آتیں دوسری طرف جب اپنے لوگوں سے بات ہوتی تو بیشتر ملک سے نالاں اور تو اور سرکاری خرچے پر تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر بھی غصے میں
اب آجائیں آج کل کے پاکستان پر ہماری Economic Success Story اگر Shining India کے ابتدائ ایام سے ذیادہ نہیں تو کسی صورت کم بھی نہیں سالوں بعد اکانامی نے پرفارم کرنا شروع کیا تمام اعشاریہ مثبت سوائے چند ایک کو چھوڑ کر لیکن ہمارے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر تو جیسے ماتم کا سماء ہے ہر کوئی ایسے رو رہا ہے کہ جیسے خدانخواستہ ملک default ہوگیا ہے جب ان کو convince کرنے کی کوشش کرو تو ایسی بودی اور گھسی پٹی دلیلیں کہ آپ دنگ رہ جاتے کہ یہ سارا data کس website سے حاصل کیا گیا جس کی رسائی ان مخصوص افراد کے علاوہ کسی کو نہیں؟
جب ان سے کہا جائے کہ foreign reserve بارہ ماہ کی بلند سطح پر پہنچ گئے تو جواب آئے گا یہ کونسا معرکہ مارا یہ سب تو IMF اور سعودی ڈالر کی کرامات ہیں لیکن جب بتایا جائے کہ جب سے یہ حکومت آئی تو پیچھلی حکومت کا  لیا گیا قرضہ اتارنے میں مصروف ہے اور WB/ADB نے تو ابھی ایک قسط نہیں دی یہ لوگ یہ بات تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کہ حکومت کے Reform Program کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار پاکستان آرہے، Remittances میں ریکارڈ اضافہ، GSP + کی تاریخی پیکج کی وجہ سے export میں اضافہ، ڈالر مافیہ کو بیرون ملک ڈالر hoard کرنے سے روکنا زرمبادلہ میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ ہیں سب سن کر جواب آتا ہے کہ اس سے غریب کو کیا فائدہ ہوا؟؟ 
جب ان سے کہو کہ fiscal deficit میں ایک unprecedented کمی آئی ہے جس کو انٹرنیشنل اداروں نے بھی سراہا ہے اور یہ پیچھلے 5-6 سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے تو جواب آئے گا کہ اس سے کرپشن تو کم نہیں ہوئی؟ اس سے غریب کو کیا فائدہ ہوا؟ جب بتایا جائے خدا کے بندو fiscal deficit  کسی بھی ملک کی اکانامی میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے یہ اس لئے کم ہوا کیونکہ حکومت نے اپنے Non-Developmental اخراجات میں 30-40% کمی کی یہ اس لئے کم ہوا کیونکہ حکومت Tax revenue میں 16.5% اضافہ کیا اور Non Tax Revenue میں تاریخی اضافہ ہوا یہ سب حکومت کی Good Governance سے ممکن ہوا تو جواب آئے گا کہ سب ٹھیک لیکن غریب کو کیا فائدہ ہوا؟
حال ہی میں کامیاب 3/4G Auction ہوئی اس پر بھی عجیب و غریب قیاس آرائیاں اور وسوسوں کا اظہار کیا گیا یہ کام جو پیچھلی حکومت سر توڑ کوشش کے باوجود نا کرسکی صرف دس مہینے کے قلیل مدت میں کردیا گیا ایسے شفاف نظام اپنایا گیا دوستوں دشمنوں سب نے سراہا لاکھوں نئے روزگار کے مواقع، کم از کم 2018 تک ملک کی GDP کو ایک  trillion کا فاہدہ ہوگا اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے Business /IT Community کو دنیا کے برابر لاکھڑا کردیا گیا لیکن وہی مرغے کی ایک ٹانگ والا حساب کہ اس سے غریب آدمی کو کیا ملے گا؟
سب سے ذیادہ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں اٹھایا جانے والا سوال کہ مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی ہے لیکن حال میں ریلیز کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں core inflation دو سال کی کم ترین سطح پر آگئی یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو تمام انٹرنیشنل اور لوکل اکنامک اداروں نے تسلیم کیا نہیں کیا تو بس چند Fake Analyst/ Pundit /Anchors نے ان کی عقل و فہم کا اندازہ اس بات پر لگائیں جب یہ بات سوشل میڈیا پر کی گئی تو اکثریت کو تو core inflation کا بھی نہیں پتہ اور یہ بھی نہیں پتہ کہ یہ data غریب امیر سب کے لئے ہوتا ہے حتکہ ایک صاحب نے تو یہ سوال بھی داغ دیا کہ اس غریب کو کیا فائدہ ہوگا  ...:ڈ
ڈالر کا بڑا شور اٹھا ایسے ثابت کیا گیا کہ جیسے سارے مسائل کی جڑ ڈالر ہے جب اوپر گیا تو بہت شور اٹھا کہ مہنگائی کا طوفان آگیا غریب کی کمر توڑ دی یہ ڈالر مافیہ ہے حتکہ finance Minister کو 'اسحاق ڈالر' تک کا نام دے دیا گیا لیکن جیسے ہی ڈالر نے قلابازی کھائی اور ریورس گئیر لگایا تو سوال اٹھا کہ اس سے غریب کو کیا فائدہ؟ بھائی جان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہیں ہیں اور سب سے زیادی مٹی کے تیل کیں ... پاکستان کے قرضوں میں آٹھ سو ارب کے قریب کمی ہوئی... ملک میں شروع کئے گئے ہزاروں میگاواٹ پاور پلانٹ کی مشینری امپورٹ میں اربوں ڈالر کی بچت... امپورٹ کی گئی اشیاء کی قیمتوں میں 5-7% کمی ہوگئی لیکن ہم اگر اتنا کچھ پڑھ لیں تو آسمان نا ٹوٹ پڑے ..
لوڈشیڈنگ کا شور ایک دفع پھر عروج پر ہے اگر ایمانداری سے دیکھیں تو واضح کمی آئی ہاں ان علاقوں میں بہت زیادہ جہاں بجلی چور رہتے ہزاروں میگاواٹ کے منصوبے شروع کئے گئے بااثر بجلی چوروں پر ہاتھ ڈالا گیا ریکارڈ مدت میں نندی پور، اوچ، گڈو پاور پلانٹ تکمیل کے مراحل میں الغرض کوئی اندھا بھی دیکھ سکتا ہے کہ دن رات کام کیا جارہا ہے اس جن کو بوتل میں بند کرنے کے لئے.. LNG کا منصوبہ جو ایک خواب لگتا تھا پیچھلے دور حکومت میں کرپشن کی کہانیوں کی وجہ سے بند رہا لیکن اربوں ڈالر کا یہ منصوبہ اب کابینہ ڈویژن سے منظور ہوچکا اور انشالله اگلے سال کے شروع میں پاکستان کی energy starved انڈسٹری کو گیس کی سپلائی شروع ہوجاۓ گی
پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کا شمار دنیا کی بہترین پرفارمنگ مارکیٹ کے طور پر کیا گیا برسوں بعد نئی کمپنیاں SECP کے ساتھ رجسٹر ہورہی ہیں برسوں بعد پاکستان میں کرپشن کی داستانیں سننے کو نہیں مل رہیں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کی رپورٹ نے بھی اس کو acknowledge کیا Good Governance کی کوشش کی جارہی ہے ہاں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے یہ شروعات ہے China اور India کو بھی ترقی کی راہ پر چلنے کے لئے سالوں لگے آخر ہم اتنے بے صبرے کیوں؟ 
خدا کے لئے اپنے ملک کی عزت کرنا سیکھیں اگر ہم نہیں کریں گے تو کوئی نہیں کرے گا اپنی سیاسی وابستگی اور اپنے چھوٹے چھوٹے وقتی مفادات سے بالاتر ہر کر ملک کا سوچیں ... آئیں سب مل کر Shining Pakistan بنائیں

Sunday, 23 March 2014

سعودی ڈالر اور غیرت برگیڈ


جب سے سعودی ڈالر پاکستان کے اسٹیٹ بنک کے اکاؤنٹ میں آیا ہے کہ گویہ بھونچال ہی آگیا ہے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا افواہوں اور قیاس آرائیوں کی آماجگاہ بن گیا ہے اوپر سے ملکہ برطانی کی وفاداری کا حلف اٹھائے "الطاف بھائ" نے لندن میں بیٹھے بے غیرت پاکستانی قوم کی غیرت جگانے کا بیڑا اٹھا لیا ہے اور تو اور کینڈا کی سرزمین پر ملکہ برطانیہ کے حلف تلے بیٹھے پروفیسر "طاہر القادری" نے بھی حکمرانوں کو خبردار کر دیا ہے کہ سعودی ڈالر کی خاطر قومی غیرت نا بیچی جائے جب سب قومی غیرت جگا رہے ہیں تو "شیخ رشید" کیوں پیچھے رہتے شیخ صاحب نے بھی حکمرانوں کو صاف صاف کہہ دیا کہ خود ہی ڈالروں کا بتا دو ورنہ میں سارے روز کھول دوں گا کاش شیخ صاحب اس وقت کچھ غیرت دکھاتے جب مشرف پانچ پانچ ہزار ڈالر میں پاکستانیوں کا سودا کررہا تھا یا پھر تھوڑی غیرت اپنے کئے ہوئے ونعدے کو پورا کر کر دکھا دیتے جب شیخ صاحب نے ڈالر 98 روپے آنے کی صورت میں قوم سے استعفٰی کا وعدہ کر ڈالا تھا
اپوزیش لیڈر خورشید شاہ نے بھی ڈالروں کا حساب مانگا ہے اور خبردار کیا ہے کہ وہ اور ان کی جماعت سعودی غلامی قبول نہیں کرے گی ویسے شاہ جی اس سے آدھا بھی اس وقت بولتے جب قوم کو کیری لوگر بل کے ذریعے 'امریکی' غلامی میں دے دیا گیا یا پھر جب جنرل نصیر الله بابر افغانستان فتح کرنے کے لئے طالبان کی بنیاد رکھ رہے تھے یا پھر جب ذوالفقار علی بھٹو صاحب برگیڈیئر ضیاء کو Jordan روانہ کررہے تھے یا پھر جب 2011 میں Jordan فوجی پاکستان کے ریٹائیرڈ آرمی افسران کو اپنی فوج میں بھرتی کرنے پاکستان پہنچے تھے یا پھر جب بھٹو صاحب نے شاہ فیصل اور قذافی کے کیمپ کو جوائن کرکے شاہ ایران کی ناراضگی مول لی تھی چلیں چھوڑیں ساری باتوں کو کم از کم قوم کو یہ ہی بتا دیں کہ IMF سے لئے گئے قرض کے پیسوں کا کیا کیا چلو چھڈو کم از کم ایران پاکستان گیس پائپ لائن ہی دکھا دیں جو پیچھلے پانچ سال سے بن رہی ہے یا پھر قوم کو اس بات پر ہی اعتماد میں لے لیں جب پی پی پی Friends Of Democratic Pakistan کے نام سے ایک فورم بنایا تھا  بہت سارے شادیانے بجائے گئے تھے کہ 5.5 ارب ڈالر قوم کو ملنے جارہے ہیں لیکن سوائے سعودی عرب کے کسی نے ایک دھیلا بھی اس میں نا دیا یا پھر اس سعودی دورے کی ہی کہانی سنا دیں جب زرادری صاحب دو جہاز بھر کر گئے تھے سعودی امداد لینے .. ؟؟
اب آجائیں روشن خیال ٹی وی اور اخباری نمائندوں کے جنہوں نے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر ایک بھرپور کمپین لانچ کی ہوئی ہے کہ یہ سعودی امداد پاکستان کی فوج کو مڈل ایسٹ کی جنگ میں جھونکنے کے لئے ہے اور کسی بھی وقت پاکستانی فوجی شام پر چڑھائی کردیں گے اور یہ بات کرتے ہوئے ایسی ایسی  تاویلیں باندھتے اور کہانیاں سناتیں ہیں کہ آپ اپنا سر پکڑ لیتے ہیں حالانکہ جتنا سعودی عرب قصوروار ہے اتنا ہی ایران بھی ہے شام کی خانہ جنگی کو ہی دیکھ لیں ایران اور روس شامی حکمران کی کھل کر حمائت کرتے ہیں اسی طرح سعودی عرب اور ویسٹرن ممالک اپنے اپنے گروپس کو سپورٹ کرتے ہیں  یہ ایک ایسی کھچڑی ہے کہ جس میں سب ہی اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈال رہے ہیں لیکن یہ روشن خیال طبقہ ہمیں باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ سارا قصور سعودی حکمرانوں کا ہے ایران تو ایک مظلوم ملک ہے حالانکہ سعودی عرب اور ایران پاکستان کے Sectarian گروپس کو سپورٹ کرتے ہیں اور پاکستان میں انتشار کی بڑی وجہ ہیں لیکن روشن خیال صرف سعودی حکومت  مودرالزام ٹہراتے ہیں الغرض افغانستان کا مسلہ ہو مڈل ایسٹ کی خانہ جنگی ہو ایران اور ویسٹ کو دودھ میں مکھی کی طرح نکال باہر کرتے ہیں اور سارا ملبہ سعودی حکومت پر ڈال دیا جاتا ہے بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی جب جب سعودی حکومت روشن خیال حکومتوں کو سپورٹ کرے تو سب ٹھیک مثلاﹰ جب مشرف حکومت کو ڈھائی سے پانچ ارب ڈالر کا تیل دیا تو چپ سادھ لی جب بے نظیر حکومت کے ساتھ مل طالبان بنائی اور افغانستان فتح کیا تو آواز نا نکلی وہی طالبان آج پاکستان existential threat بن کر سامنے آئے ہیں اور انہیں کے خلاف آپریشن کا مطالبہ دن رات یہ لوگ سوشل اور الیکٹرانک میڈیم پر کرتے ہیں پھر یہی ڈالر اگر امریکہ سے آئیں کیری لوگر کی مد میں تو غیرت گھاس چرنے چلی جاتی ہے جب پاکستانی فوج collision support fund کے پیسے reimburse کرنے کے لئے امریکہ کو بل بھیجتی ہے تو ان کی آواز نہیں نکلتی کیا اس وقت یہ کرائے کی فوج نہیں ہوتی؟
وزیراعظم کا یہ دوٹوک اعلان کہ پاکستان کی فوج نا تو کہیں جارہی ہے نا ہی کسی ملک نے ہم سے فوج مانگی ہے ایک خوش آئند پیش رفت ہے اسی طرح وزیراعظم کا اگلے ماہ ایران کا دورہ بھی ایک سنگ میل کی حثیت اختیار کر گیا ہے جہاں پاکستان کو ایران کا موقف سننے کا موقع ملے گا اور ایران کو اپنا موقف سمجھانے کا.. ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے پاکستان کے میڈیا اینکر کو غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چائیے بغیر وجہ کے پرائی جنگ اپنے ملک میں لانے کی کوئی وجہ نہیں اگے ہی جس ملک میں لسانی بنیادوں پر قتل و غارت کا بازار گرم ہے پورے ملک میں شعیہ برادری کے علماء اور اکابرین کو چن چن کر مارا جارہا ہے پورا معاشرہ religious extremism اور radicalization کی طرف بڑھ رہا ہے مذہبی اقلیتیوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے وہاں اس جیسا غیر ذمہ درانہ رویہ سمجھ سے بالاتر ہے کہیں ایسا تو نہیں مسلہ ڈالروں کا نہیں مسلہ سعودی ڈالروں کا ہے؟