Saturday, 25 October 2014

چندے سے انقلاب اور زہنی غلامی

آج کل تحریک دوستوں کا بہترین مشغلہ ہے کہ دوسری پارٹی کے لوگوں کو زہنی غلامی کے طعنے مارنا اگر آپ لکھنے لکھانے کے شوقین ہیں یا پھر صحافی ہیں تو پھر ڈالر خور، پٹواری، راہ، CIA پتہ پتہ نہیں کس کس سے آپ کا تعلق جوڑ دیا جاتا ہے سیاسی حریفوں کی ایسی بینڈ بجائی جاتی ہے کہ آپ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں فضل الرحمان اگر آپ کے جلسوں میں 'مجروں' کا زکر کرتے ہیں تو گالیوں سے تواضع کی جاتی ہے پھر ان کے خودکش حملے میں بچنے پر حیرانگی اور پشیمانی ہوتی ہے لیکن اسی فضل الرحمان کے خلاف اپنے جلسوں میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگوائے جانا اپنا جہموری حق سمجھا جاتا ہے ہر دوسرے دن اپنی سیاسی حریف مریم نوازشریف کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ بنایا جاتا ہے بے شرمی کی تمام حدیں پار کی جاتی ہیں لیکن جب لوگ آپ کے لیڈر کی اولاد کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو اسے زاتی فیل قرار دیا جاتا ہے جب شیخ رشید جیسا سیاستدان آپ کے جلسوں میں کھڑا ہوکر اپنے سیاسی حریفوں پر گندی جگتیں کستا ہے تو آپ کی زبان گنگ ہوجاتی ہے
چلیں اس کو بھی چھوڑیں سوشل میڈیا کی ہی بات کرلیتے ہیں جیسے ہی آپ کے مخالف کوئی تحریر لکھی یا پھر کوئی ٹوئیٹ کریں ایک جتھا بنا کر مخالفین پر حملہ کیا جاتا ہے اس ناچیز پر تو کوئی خاص کرم ہے کہ روز ہی خاطر تواضع کی جاتی ہے لیکن آپ نے تو مبشر بٹ جیسے لوگوں کو بھی نہ چھوڑا جو غلطی سے آپ کو ووٹ ڈال بیٹھے تھے اپنے بلاگز میں کچھ چیزوں کی نشاندہی کیا کردی تو سب نے آؤ دیکھا نا تاؤ ان پر چڑھ دوڑے ان کی خوب عزت افزائی کی گئی اسی طرح ابھی افشاں نامی لڑکی نے آپ کے دھرنوں کے لائیو مناظر بلاگز کی شکل میں شئیر کئے تو ٹرولز کا ایک ہجوم تھا جو اس بیچاری پر چڑھ دوڑا ن لیگ کو سپورٹ کرنے والی مہوش بھٹی کو دو سال کی پرانی خبر کو بنیاد بنا کر paid ایجنٹ کے طعنے مارنے شروع کردئیے عمر چیمہ بیچارے کا جو حال کیا وہ سب کے سامنے ہے حالانکہ یہ جو کپتان صاحب روز اپنی تقرریوں میں پولیس کو شفاف بنانے کی بھڑکیں مارتے ہیں یہ سٹوری عمر چیمہ کی ہی تھی اسی طرح آپ کے احتساب بل کی اسٹوری بھی اس ناچیز کی تھی لیکن کیا کریں ٹرولز تو صرف درباری ذہنیت کے مالک ہیں اگر آپ ان کے ساتھ ہیں تو سب خیر ورنہ آپ کی خیر نہیں سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے لیکن اسے اپنا جہموری حق سمجھا جاتا ہے
چلیں اب آتے ہیں آج کے موضوع کی طرف، کل کپتان نے اپنے گجرات جلسے کے دوران انقلاب کے لئے چندے کی ڈیمانڈ کردی پہلے ان کے کزن قادری صاحب بھی انقلاب کے لئے نوٹ مانگ چکے ہیں آخر کپتان پیچھے کیوں رہتے لیکن میں آج اس زہنی غلامی اور چندہ مہم پر اپنے آرام دہ کمروں میں بیٹھے پیپسی کی بوتلوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سوشل میڈیا جہادیوں سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں
1) سب سے پہلے کیا ہمارے بھائی اپنی زہنی غلامی سے نکل کر اپنی لیڈرشپ سے یہ پوچھیں گے کہ تحریک انصاف کو دئیے گئے فنڈز کی  انٹرنل آڈٹ رپورٹ کا کیا بنا؟ کروڑوں روپے کے فنڈ ممبرز کے زاتی اکاؤنٹ میں کس طرح پہنچ گئے؟ کیوں عمر چیمہ کے بار بار فون کرنے کے باوجود پارٹی قیادت نے اس مسلے پر خاموشی اختیار کئے رکھی؟ عمر چیمے کی رپورٹ کو آئے ہوئے کئی دن گزر گئے کیوں ابھی تک کسی رہنما کی جرات نہیں ہوئی کہ اس کی رپورٹ کو جھٹلا سکے یا پھر اس کا جواب دے سکے؟ میں جانتا ہوں میرے تحریکی بھائی ذہنی غلام نہیں ہیں چندے کی اگلی قسطیں دینے سے پہلے پیچھلی قسطوں کا حساب ضرور لیں گے اور اپنے زہنی غلام ہونے کے تاثر کی نفی کردیں گے
2) کپتان صاحب ہر تقریر میں الیکشن دھاندلی کا زکر کرتے ہیں ان کے ساتھ جو تاریخی فراڈ ہوا اس کا زکر کرتے ہوئے بھی نہیں بھولتے لیکن ابھی چند ہفتے پہلے پی ٹی آئی کے انٹرنل الیکشن کی رپورٹ سامنے آئی ہے کہ کس طرح پورا الیکشن دھاندلی زدہ تھا وڈیروں، گدی نشینوں اور سرمایہ داروں نے اپنے پیسے اور اثرورسوخ کے زور پر جیت لیا کمیشن نے صاف صاف کہہ دیا کہ یہ دھاندلی زدہ بوگس الیکشن تھا مجھے پوری امید ہے کہ دوسروں کو زہنی غلامی کا طعنہ دینے والے کل ہی سوشل میڈیا پر ایک دبنگ قسم کا ٹرینڈ لائیں گے اس ناانصافی اور دھاندلی کے خلاف آخر کچھ تو فرق ہو ذہنی غلاموں اور سچائی کے پیکروں میں؟
3) اسی طرح تسنیم نورانی کمیشن کی رپورٹ آئی جس نے صاف صاف کہہ دیا کس طرح پیسے لے کر الیکشن میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ بیچے گئے ان گنت بے قاعدگیوں کا زکر کیا گیا اس رپورٹ کو آئے بھی مہینوں گزر گئے لیکن آنکھیں ترس گئیں کہ شائید لیڈرشپ سے کوئی سوال کیا جائے گا؟ ٹوئٹر پر اس ظلم کے خلاف کوئی ٹرینڈ آئے آخر آپ لوگ آسمانی مخلوق جو ٹہرے ذہنی غلاموں والی چیزیں تو آپ لوگوں کے قریب نہیں پھٹکتیں؟ اس رپورٹ کو بھی منظرعام پر عمر چیمہ لے کرآیا پھر اس بیچارے کی جو درگت بنی وہ سارے سوشل میڈیا نے دیکھی یہ کیسا انصاف کیا آسمانی مخلوق نے؟ آپ لوگ تو سب سے ممتاز تھے آخر آپ لوگ کیسے اس ذہنی غلامی میں پھنس گئے؟
4) آپ نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ شوکت خانم کے فنڈز میں جو بےقاعدگیاں ہوئیں وہ آپ قوم کے سامنے لائیں گے؟  جس جس سال کا آڈٹ رہ گیا ہے وہ فورا کروا کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیں گے؟  چلیں اس بات کو یہیں روک دیتے ہیں کیونکہ شوکت خانم ایک ایسا ادارہ ہے جس کے ساتھ ہم سب کی جزباتی انسیت ہے حالانکہ فیصل سلطان صاحب آپ کو کہہ چکے کہ اسے پولیٹکل فائدے کے لئے استعمال نہ کریں اس کو سیاست سے دور رکھیں
5)  اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعتیں چندوں اور عطیات سے چلتی ہیں لیکن جناب اس قوم پر یہ مہربانی کرکے بتا دیں کہ دنیا میں کون سا انقلاب چندے سے آیا؟ ویسے بھی آپ کو چندے کی کیا ضرورت ہے جب آپ کے دائیں جانب 'شوگر کنگ' کھڑا ہو؟  آپ کے بائیں جانب 'ایجوکیشن کنگ' کھڑا ہو؟ آپ کے ساتھ 'گدی نشین کنگ' کھڑا ہو؟ آپ کے پیچھے لاہور کا 'پراپرٹی کنگ' کھڑا ہو؟ آپ کی حوصلہ افزائی کے لئے سیالکوٹ کے ڈار ہوں؟ آپ کو گرمانے کے لئے خٹک قبیلہ ہو اور KPK کی گاڑیوں پر لایا گیا ڈیزل موجود ہو؟ بڑے بڑے جنرل، جج آپ کو مشورہ دینے کے لئے موجود ہوں؟ جو تھوڑی کسر رہ جائے وہ گجرات کے چوہدری پوری کرنے کے لئے موجود ہوں؟ مطلب کھربوں روپے کے مالک آپ کے اردگرد ہوں اور آپ لوگوں سے دس دس روپے بیس بیس روپے کا چندہ مانگیں؟
امید ہے انشااللہ اب اس بلاگ کے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر سچائی کے علمبردار ایک ہیجان بھرپا کردیں گے اور مزید انقلابی چندہ دینے سے پہلے پیچھلے کا حساب لیں گے اور زہنی غلاموں کے لئے ایک تاریخ رقم کردیں گے

Friday, 17 October 2014

اور جہموری نظام جیت گیا

پاکستان پیھچلے دو ماہ سے ہیجان کی کیفیت کا شکار ہے یہ سلسلہ چودہ اگست کو شروع ہوا جب عمران خان جو کہ جنرل الیکشن میں 7.6 Million ووٹ لے چکے ہیں نے یہ ٹھانی کہ مجھے علامہ طاہرالقادری، چوہدری برادران، شیخ رشید وغیرہ کے ساتھ مل کر موجودہ نظام کو گرانا ہے اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اب تو پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر لندن پلان اور انگلی گروپ کے چرچے ہیں حتکہ تحریک انصاف کے ہارڈ کور ووٹر بھی کنفیوژن کا شکار ہیں اس مارچ کا مقصد تو یہ تھا کہ وزیراعظم سے استعفی لیا جائے گا اس گلے سڑے نظام سے چھٹکارا حاصل کیا جائے گا کپتان صاحب نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر شائد ہی کسی ادارے پر الزام نہ لگایا ہو ہر کسی کو controversial بنایا گیا خود کو ایک مسیحا کے طور پر پیش کیا گیا نوازشریف کی پندرہ مہینے کی حکومت کو حسن مبارک کے دہائیوں پر محیط Dictatorial نظام سے ملایا گیا آپ کا ساتھ دینے والے ہر اس بندے کو صاف شفاف کہا گیا چاہے وہ اس سسٹم کا سب سے بڑا beneficiary ہی کیوں نہ رہا ہو

سب کچھ تیار تھا میڈیا پر بغل بج چکا تھا اس حکومت کا جانا ٹہر گیا تھا انگلی اٹھنے کی نوید سنادی گئی تھی جب سارے میڈیا چینلز نے کنٹینر پر کھڑے جاوید ہاشمی کو آپ کے کان میں سرگوشیاں کرتے دکھایا لیکن آپ نے ان کو لفٹ نہ کروائی اور وزیراعظم ہاوس فتح کرنے چل پڑے اگلے چند دنوں میں جاوید ہاشمی نے میڈیا پر آکر لندن پلان اور اس ساری سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا اس مہم جوئی کا حصہ بننے سے انکار کردیا پارلیمنٹ جاکر تقریر کی آپ کی خواہش کے مطابق استعفی پیش کیا اور عوامی عدالت میں جانے کا اعلان کردیا لیکن اس سارے کھیل میں کہیں نہ کہیں وہ اس پارلیمنٹ اور جہموری سسٹم کو بچا گیا

آنے والے چند ہفتوں نے اس کو سچا ثابت کیا آپ کے دھرنے فلاپ ہوگئے اور آپ کو جلسے جلوسوں کا راستہ اختیار کرنا پڑا یہاں تک کہ اس نے آپ اور آپ کی پارٹی پر اتنا پریشر بلڈ کردیا کہ آپ کو ملتان کے ضمنی الیکشن میں اس گلے سڑے نظام کا حصہ رہے عامر ڈوگر جیسے بندے کی حمائت کرنا پڑی بلکہ اس کو ہرانے کے لئے ملتان میں ایک عظیم الشان جلسہ کرنا پڑا جاوید ہاشمی کا گھر سے نکلنا مشکل کردیا گیا جہاں وہ گیا آپ کے ٹائیگرز نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو جتنا زلیل کرسکتے تھے کیا لیکن وہ میدان چھوڑ کر نہیں بھاگا بلکہ یہاں تک کہ ساری انتخابی مہم گھر میں پریس کانفرنس کرکے کرنا پڑی میڈیا نے جاوید ہاشمی کے خلاف مہم میں اپنا حصہ نہایت احسن طریقے سے ڈالا پھر مسلم لیگ کے لوکل جھگڑوں سے بھی اس کو نقصان ہوا مسلم لیگی لیڈرشپ آپ کی حمائت کا اعلان کرنے کے باوجود بھی ملتان میں آپ کی مدد کو نہ پہنچی البتہ لوکل لیڈرشپ نے آخری چند دن تمام جھگڑوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کھل کر آپ کی سپورٹ کی وہیں سے حالات نے پلٹا کھایا اور آپ گھر سے نکلے اپنی کمپین بھرپور طریقے سے چلائی لیکن آپ سے ناراض مسلم لیگی ووٹر شہر کے پولنگ اسٹیشن سے آپ کو جتانے کے لئے نہ نکلا حکومتی پرفارمنس بھی آڑھے آگئی لیکن سب چھوڑئیے حقیقت تو یہ ہے اس ضمنی الیکشن نے آپ کو بھی بری طرح ایکسپوز کردیا حکومتی ووٹر کی حکومت سے ناراضگی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ اپنی حکومت کی کارکردگی سے خوش نہیں ہے لیکن آپ کی وہ تبدیلی کہاں گئی؟ وہ لاکھوں لوگ جو جلسے میں آئے تھے وہ کہاں گئے؟ جنرل الیکشن میں آپ نے اس سیٹ سے 83k ووٹ لئے تھے جو کم ہو کر 52k رہ گئے باوجود دو مہینوں کے دھرنوں، شہر شہر جلسوں، پرائم ٹائم میڈیا کوریج جو دو مہینوں سے آپ انجوائے کررہے ہیں؟

اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ جاوید ہاشمی ہار کر بھی اس جہموری سسٹم کی بہت بڑی خدمت کرگیا بلکہ اس کی ہار نے اس سسٹم کو زیادہ تقویت بخشی جو کہ اس کی جیت کی صورت میں ممکن نہ ہوسکتی آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ کیسا ظالم آدمی ہے کہ ایک بیمار شخص کی ہار پر خوش ہورہا ہے ؟ نہیں ایسی بات بالکل بھی نہیں ہے پیچھلے دو مہینوں سے عمران خان اینڈ کمپنی نے جو argument build کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ سسٹم ایک گلا سڑا بدبودار ہے جو کسی کو انصاف نہیں دے سکتا گزشتہ الیکشن فراڈ اور دھاندلی زدہ الیکشن تھے نوازشریف اتنا پاورفل آدمی ہے کہ اس نے تمام پاکستانی ادارے خرید لئے ہیں لیکن جاوید ہاشمی نے عمران خان اینڈ کمپنی کو اسی سسٹم سے فائدہ لینے والے electable کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور کردیا  اسی سسٹم جس کو عمران خان اینڈ کمپنی بوسیدہ اور executive کا تابع کہہ رہے تھے بلکہ یہاں تک کے ان کے سربراہان پر سنگین الزامات بھی لگائے اسی سسٹم کے تحت وہ الیکشن لڑے جس کو وہ کنٹینر پر کھڑے ہوکر ماننے کو تیار نہ تھے ان کا جیتا ہوا امیدوار الیکشن کمیشن کی تعریفیں کرتا نہیں تھک رہا اپنی جیت کے بعد ان کی حمائت کرنے والے پیراشوٹ اینکر اپنے پروگرامز میں مٹھائیاں بانٹ رہے تھے شاہ محمود غزنوی ایک بہت بڑا معرکہ جیتنے کا اعلان کررہے تھے لیکن یہ سب کرتے ہوئے بھول گئے کہ ان کی اس حرکت سے الیکشن کمیشن کی ایک بہت بڑی جیت ہوئی پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت بالکل نیوٹرل رہی ورنہ پاکستان کی تاریخ اٹھا لیجئے حکومتی پارٹی کے لئے ایک عدد ضمنی الیکشن اگے پیچھے کرنا کیا مشکل کام ہے؟ سب سے بڑھ کر اسی گلے سڑے بوسیدہ سسٹم نے عمران خان اور ان کی پارٹی کو انصاف دیا اور جنرل الیکشن 2013 کے ٹرینڈ کو بھی ثابت کردیا جب تحریک انصاف اس حلقے سے کامیاب ہوئی تھی بلکہ سہیل وڑائچ کے بقول historical facts بھی ثابت ہوگئے ملتان کے یہ دو شہری حلقے ہمیشہ اپوزیشن جیتی بھٹو صاحب کے دور میں بھی یہی ہوا 2002 میں پیپلز پارٹی جیتی 2008 میں ن لیگ فاتح ٹہری اور 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے جیتی
جاوید ہاشمی ہار کر بھی آپ کی سیاست پر سنگین سوالات اٹھا گیا ہے اس کی ہار نے ثابت کیا کہ ووٹ کی طاقت سے ہی سسٹم تبدیل ہوسکتا ہے منظم دھاندلی کرنا اس الیکشن میں ناممکن تھا جس کا ڈھنڈورا آپ کنٹینر پر کھڑے ہوکر پیٹ رہے ہیں ہاں لوکل دھاندلی ممکن ہے جیسے کہ جاوید ہاشمی کے ساتھ کی گئی یا جیسے میڈیا نے جنرل الیکشن سے پہلے آپ کے حق میں کی تھی کیونکہ یہ الیکشن کوئی ڈکٹیٹر بندوق کے زور پر نہیں کروا رہا تھا مشرف ریفرنڈم تو آپ کو یاد ہوگا پھر جب 2002 میں ن لیگ سارا لاہور جیت گئی ساری دنیا نے دیکھا کیسے رزلٹ تبدیل کئے گئے اس ملک نے فاطمہ جناح کے خلاف دھندلی کو بھی دیکھا کیا ہی بہتر ہو کہ آپ اس سے کوئی سبق سیکھیں اور سب کے حال پر رحم کرکے دھرنے ختم کریں اصطلاحات پر زور دیں نئے الیکشن کمشنر کے لئے ایک صاف ستھرا نام تجویز کریں اچھی اپوزیشن کرکے بلدیاتی الیکشن کو یقینی بنائیں الیکشن کمیشن کی اصطلاحات کو یقینی بنائیں لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالیں اداروں میں ایماندار سربراہان کی تعنیاتی یقینی بنائیں ہمارے ملک میں ان گنت مسائل ہیں جو بطور اپوزیشن کی سب سے بڑھی پارٹی ہوتے ہوئے آپ کی نظرکرم کے منتظر ہیں سب سے بڑھ کر KPK میں ایک مثالی حکومت دے کر آپ لوگوں کے دلوں پر راج کرسکتے ہیں  مہاتیر محمد، طیب اردگان وغیرہ سب سسٹم کے اندر رہ کر تبدیلی لے کرآئے خدا کے لئے سسٹم کے اندر سے تبدیلی لائیں ورنہ اب ریاست پاکستان کو بچانا مشکل ہوجائے گا
نوٹ! کل کے انتخاب سے بظاہر ایسا تاثر ابھرا ہے کہ عوام ابھی اس حکومت کو مزید وقت دینے کے موڈ میں ہے لیکن اگر ن لیگ کی طرف سے ہنگامی بنیادوں پر گورنس کو بہتر نہ کیا گیا تو یہ ناراض ووٹر کسی بھی وقت پلٹا کھا سکتا ہے پھر سہی معنوں میں انقلاب آئے گا جس کے آگے بند باندھنا ناممکن ہوگا

Wednesday, 24 September 2014

بند کنٹینر سے بند گلی تک؟

اسلام آباد پانچ ہفتوں سے دھرنوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو ان دھرنوں نے پورے ملک کو زہنی کوفت اور ہیجان میں مبتلا کردیا ہے چوبیس گھنٹے میڈیا چینلز پر ایک ہی طرح کے تبصرے اور تجزئے سن سن کر لوگوں کے کان پک گئے ہیں اب تو یہ صورتحال ہے کہ جیسے ہی کسی چینل پر دھرنے کا زکر آتا ہے چینل بدل دیا جاتا ہے اور جوں جوں ہفتے گزرتے جارہے ہیں یہ دھرنے بھی سکڑ کر سینکڑوں میں رہ گئے ہیں لیکن ہفتہ اتوار کو رونق زیادہ ہوتی ہے کپتان کا دھرنا تو شام کو شروع ہوتا ہے اور دو تین بجے کے قریب ختم ہوجاتا ہے لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں اور کپتان دس بارہ گھنٹے ورزش کے لئے اپنے دو سو کنال کے چھوٹے سے گھر بنی گالا چلا جاتا ہے لیکن قادری صاحب کو کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کے پانچ دس ہزار لوگ اپنی جگہ بیٹھے رہے وہ بھی اب سکڑ کر تین چار ہزار رہ گئے ہیں بحرحال ان کا اوڑھنا بچھونا دھرنے والی جگہ پر ہی ہوتا ہے لیکن پھر ان کے دھرنے کے بارے میں رائٹر اور بی بی سی میں رپورٹ چھپ چکی ہیں کہ دھیاڑی دار لوگ دھرنے میں موجود ہیں بلکہ ان بیچاروں کے تو شناختی کارڈ تک ضبط کرلئے گئے ہیں روز حاظری لگتی ہے کہ کہیں بھاگ ہی نہ جائیں بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ وہ بیچارے تو قیدی ہیں جو تین چار روز کا بتا کر لائے گئے لیکن اب اپنی قسمت کو رو رہے ہیں
 
میڈیا نے بھی 'لندن پلان' کے ایکسپوز ہونے کے بعد قادری صاحب سے تو کافی حد تک ہاتھ کھینچ لیا ہے لیکن کپتان کے لئے نرم گوشہ کافی میڈیا ہاوسز کا موجود ہے بالکل اسی طرح جس طرح جنرل الیکشن سے پہلے تھا مسلہ کپتان کے لئے اب یہ کھڑا ہوگیا ہے کہ لندن پلان کے ایکسپوز ہونے کے بعد اور ایمپائر کی انگلی کھڑی کرنے سے انکار کے بعد اب کیا کیا جائے؟  کیونکہ اس لندن پلان اور اس کے کرداروں کا زکر پاکستان کے ہر گھر، چوپالوں، بیٹھک، شادی بیاہ کی تقریبات، ڈرائنگ رومز، کلبز، چائے پان کے کھوکھوں میں ہورہا ہے دوسرا اسلام آباد میں شرکاء کی تعداد سینکڑوں میں سکڑنے کے بعد شائید کپتان کو احساس ہوا ہے کہ دھرنے میں کھڑا کروڑوں روپے کا یہ مہنگا کنٹینر ایک بند گلی ثابت ہورہا ہے؟ اگر اس تحریک کو یہاں سے ہی چلانے کی کوشش کی گئی تو یہ دوچار ہفتوں میں اپنی موت آپ مرجائے گی اسی لئے شائید کپتان ملک میں جلسوں کا آغاز کیا ہے جس سلسلے میں پہلا معرکہ کراچی میں ہوا ایک اچھا جلسہ کیا گیا جو بلاشبہ کپتان کے لانگ مارچ اور دھرنے سے بڑا تھا لیکن سوال تو یہ ہے کیا یہ بھی پلان کا حصہ تو نہیں تھا؟ کراچی کے جلسے کرکے وہاں تیس سال سے حکومت کرنے والی جماعت کے بارے میں ایک لفظ نہ کہنا؟ اسی جماعت کے لیڈر کے خلاف آپ لندن میں کیس کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہوں؟ اپنی سیاسی ورکر زہرہ آپا کے قتل میں ملوث قرار دیتے رہے ہوں؟ کراچی میں تاریخی دھاندلی کا الزام لگایا جائے؟ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا زمہ دار کہتے ہوں؟  ایک لمبی چارج شیٹ پیش کرتے ہوں اس جماعت کے بارے میں لیکن اس کے خلاف معنی خیز خاموشی اختیار کرلی جائے ایک لفظ نہ بولا جائے بلکہ وہاں ان سیاستدانوں کو رگڑا لگایا جائے جن کا کراچی کی سیاست سے دور دور کا کوئی تعلق نہ ہو؟
 
آنے والے ہفتوں میں لاہور، ملتان وغیرہ میں جلسوں کا اعلان کیا ہے لیکن نواز شریف سے استعفیٰ کیسے لیا جائے گا اس کا کوئی اتا پتہ نہ ہو کیونکہ آپ تو ہفتوں سے لوگوں کو شہر بلاک کرنے کا کہہ رہے تھے یہ جلسے جلوس تو اس لانگ مارچ شروع کرنے سے پہلے بھی آپ مختلف شہروں میں کرچکے ہیں لاہور میں تو 14 اگست کو آپ پورا دن گھومتے رہے آپ کے چند سو لوگ ہر روز لبرٹی اور ڈیفینس میں دھرنا دیتے ہیں چلیں یہ بھی مان لیتے ہیں کہ آپ لاہور اور ملتان میں اچھے جلسے کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟ لیکن پھر کیا ہوگا؟ کیونکہ آئینی اور قانونی طور پر وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے وہ پارلیمنٹ سے ہوکر گزرتا ہے جہاں آپ کے پاس نمبر پورے تو درکنار قریب قریب بھی نہیں ہیں بلکہ الٹا آپ کی اس مہم جوئی کے نتیجے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ساری پارلیمنٹ پرائم منسٹر کی پشت پر کھڑی ہوگئی پھر ایسی کونسی گیڈر سنگی ہے جسکو آپ چلائیں گے تو پرائم منسٹر اپنا استعفی پلیٹ میں رکھ کر آپ کو دے دیں گے اور آپ کو پرائم منسٹر لگا دیا جائے گا؟  سول نافرمانی کی تحریک کا حشر ساری قوم نے دیکھ لیا ٹیکس کولیکشن پہلے دو ماہ میں پندرہ فیصد اضافہ ہوگیا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ہنڈی سے پیسے بھجوانے کی اپیل کا یہ نتیجہ نکلا کہ ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوگیا
 
اب آتے ہیں 'لندن پلان' کی طرف جس کی روح سے آپ کو دس لاکھ بندے لے کر اسلام آباد پہنچنا تھا اتنی Anarchy پھیلانی تھی کہ سپریم کورٹ اور فوج مجبور ہوجاتی کہ حکومت کو گھر بھیج دیا جائے لیکن آپ تو چند ہزار بندے لے کر اسلام آباد پہنچے وہ ایک لاکھ موٹرسائیکل کا دستہ بھی راستے میں ہی کہیں گم ہوگیا لیکن اس بات کو بھی چھوڑیں فرض کرلیتے ہیں کہ آپ مطلوبہ بندے لے کر وہاں پہنچ جاتے لیکن کیا آپ نے یہ سوچا کیا یہ سب آپ کو منصب وزارت عظمی پر بیٹھانے کے لئے کیا جارہا ہے یا پھر اداروں کی اپنی لڑائی میں آپ کو چارے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے؟ کیا آپ اٹھارہ سال سیاست کرنے کے بعد بھی یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ نوازشریف مارشل لا۶ تو لگوا دے گا لیکن استعفیٰ نہیں دے گا؟ پرویز مشرف نے جو دغا آپ کے ساتھ کیا اس سے بھی آپ نے کوئی سبق نہیں سیکھا وہ ڈکٹیٹر کا ساتھ دینا آج بھی آپ کے گلے پڑا ہوا ہے حتکہ آپ قوم سے متعدد بار معافی بھی مانگ چکے ہیں
 
اس جنگ کا نتیجه نوشتہ دیوار ہے جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی تھی وہ آرمی چیف کے آئین اور قانون کے ساتھ کھڑے ہونے سے پوری ہوگئی جو باقی رہ گئی تھی وہ آرمی چیف نے اپنی نئی ٹیم بنا کر ثابت کردیا کہ وہ ایک پروفیشنل سولجر ہیں عدلیہ نے بھی آپ کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے لیکن مسلہ تو اب یہ ہے کہ آپ کی سیاست کا کیا ہوگا؟ آپ نے اس ایڈونچر سے کیا حاصل کیا؟  آرمی چیف نے عزت بھی کمائی اور طاقت بھی حاصل کی؟ پارلیمنٹ نے کافی حد تک اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کیا؟ نوازشریف ایک تاریخی سازش کے بعد بھی ابھی پرائم منسٹر ہیں اور اگلے ایک دو سال اچھی طرز حکمرانی دیں تو شائد بہت باوقار وزیراعظم بن کر ابھریں؟ پیپلز پارٹی نے بھی سارے ایڈونچر سے سیاسی طاقت میں اضافہ کیا..
 
تازہ خبروں کے مطابق اب حکومت آپ لوگوں کے استعفے بھی قبول کرنے کے بارے میں سوچ رہی بلکہ اکیلے اکیلے آپ کے ممبران کو بلا کر کافی ہاشمی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی؟  الیکشن اصلاحات کا کریڈٹ بھی حکومت پارلیمنٹ کو دینا چاہتی ہے؟ چائنیز صدر کے دورے کی منسوخی بھی آپ کے سر منڈھ دی گئی آپ کو چونتیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو داؤ پر لگانے کا زمہ دار کہا جارہا ہے؟ تاریخی سیلاب کے باوجود آپ پر الزام لگ رہا ہے کہ آپ کرسی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں؟ آپ کے صوبے میں ٹارگٹ کلنگ، دہشتگردی عروج پر ہے لیکن آپ کو پنجاب کی فکر ہے؟ لاکھوں افراد بے گھر ہوکر آپ کے صوبے میں پڑے ہیں لیکن آپ تو وفاق پر قبضے کرنے آئے ہیں؟ جاوید ہاشمی نے آپ کی سیاست کو بیچ بازار ایکسپوز بھی کردیا اداروں پر حملے کا داغ بھی آپ کا نصیب ٹہرا طاہرالقادری جیسے بندے کے ساتھ لندن میں ملاقاتوں کی کہانی بھی زبان زدعام ہوگئی جمہوریت کے خلاف سازشوں کا سہرا بھی آپ کے سر ٹہرا ہفتوں روز تقریریں کر کر کے آپ نے اپنے روائتی سیاستدان ہونے کا ثبوت بھی دے دیا پاکستان کے ہر ادارے پر الزام تراشی سے اداروں میں بھی بدنام ہوئے پہلے ہفتے دس دن کے اندر ملی تاریخی کامیابیوں کو نہ سمیٹ کر آپ نے ایک نابالغ سیاستدان ہونے کا ثبوت بھی دیا سب سے بڑھ کر کہ یہ احساس پورے ملک میں شدید ہوگیا کہ "آپ کے ساتھ اپرمڈل کلاس اور ہائرکلاس کے 5-10% کے لوگ ہیں جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ صرف ان کا ووٹ matter کرتا ہے لیکن اس 90% آبادی لوئر مڈل کلاس اور غریب آدمی کی اس ملک میں کوئی وقعت نہیں؟ جیسے ہی آپ لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے باہر نکلتے ہیں آپ کا ووٹ بنک سکڑنا شروع ہوجاتا ہے خیبرپختونخوان کی کامیابی بھی آپ سنھبال نہ پائے وہاں بھی آپ کی گورنس کا پول کھل گیا".. چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بہت بڑھا ہے کہ یہ پنجاب کی جنگ ہے جس میں ان کو کوئی پوچھ ہی نہیں رہا اگر ان میں سے کسی نے آئین اور قانون کی اس طرح دھجیاں اڑائی ہوتیں تو اب تک غدار قرار دیا جاتا، جیل میں ڈال دیا جاتا یا پھر کسی سڑک پر دہشتگرد کہہ کر ماردیا جاتا؟ 'ان سب ٹرافیوں اور میڈلز جو آپ نے اس دھرنے اور جلسوں سے جیتیں ہیں کے بعد بھی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ بند کنٹینر سے نکل کر بند گلی میں نہیں جا گھسے تو الله آپ کا مددگار ہو
 
نوٹ! اس فدوی کو گالیاں دے کر اپنا ٹائم ضائع مت کریں اگر DJ Butt سے آدھا معاوضہ بھی دیا جائے تو کپتان کی تعریفوں سے بھرپور بلاگ لکھے جائیں گے، اسلئے گالیاں دینے کی بجائے معاوضہ دینے پر غور کریں! شکریہ

Sunday, 14 September 2014

نیا پاکستان بنانے کا کپتانی نسخہ

پاکستان کی بھی کیا قسمت ہے جب سے بنا ہے ایک تجربہ گاہ کی شکل اختیار کرگیا ہے ہر پانچ دس سال بعد ایک نیا تجربہ کیا جاتا ہے لیکن ان تمام تجربوں میں کافی قدریں مشترک ہوتی ہیں آج کل ایک نیا تجربہ 'نئے پاکستان' کے نام سے کیا جارہا ہے اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو احساس ہوتا ہے کہ اس دفعہ 67 سالوں کے تمام تجربوں کو آزمانے کی کوشش کی جارہی ہے قطعہ نظر اس بات کے کہ کون اس تجربے کے پیچھے ہے یہ کس کا نسخہ ہے لیکن اس کو کرنے والی شخصیت کا نام 'عمران خان' ہے جی وہی کپتان جنہوں نے 1992 کا ورلڈ کپ جتایا تھا اگر ان کی باتیں مان لی جائیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شائد وہ گیارہ کھلاڑیوں کی زمہ داریاں انجام دے رہے تھے وسیم اکرم، Inzimam, مشتاق احمد، میانداد وغیرہ باہر بیٹھے میچ دیکھ رہے تھے جی یہ وہی کپتان ہیں جو ہر ٹاک شو اور تقریر میں ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کس طرح شوکت خانم ہسپتال اور نمل کالج بنایا لیکن جب آپ ان کی سیاسی کامیابیوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ 'نیا پاکستان' کی صورت میں ابھی رونما ہونا باقی ہیں لیکن نیا پاکستان بنانے کا نسخہ وہ ہر تقریر اور ٹاک شو میں بتاتے ہیں

1)  نیا پاکستان بنانے کے لئے سب سے ضروری بہترین ٹیم کا چناؤ ہے اور کپتان نے یہ کام بخوبی انجام دیا ہے کپتان نے پاکستان کی تمام پارٹیوں سے رابطہ کیا جو فوجی اور سولین ادوار میں اس ملک پر حکومت کرچکی ہیں ان کے نکالے ہوئے اور دھتکارے ہوئے تمام لوگوں کو اپنی پارٹی میں جگہ دی پھر وہ لوگ جو حالیہ مشرف حکومت میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں ان کو اپنی پارٹی میں شامل کرلیا اور جو چپڑاسی، ڈاکو بچ گئے ان سے اتحاد کرلیا ان میں سے چند غریب اور مسکینوں کے نام پیش خدمت ہیں جو ایک بار پھر ملک کی خدمت کے جزبے سے سرشار ہیں شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، پرویز خٹک، شیخ رشید، چوہدری برادرز، اسحاق خاکوانی، میاں محمود الرشید، علیم خان وغیرہ وغیرہ

2) نیا پاکستان بنانے کی دوسری شرط یہ ہے کہ نئے پاکستان میں صرف کپتان اور اس کی ٹیم سچ بولے گی بلکہ اس بات کا تعین بھی وہ کرے گی کہ دوسرا کون کون سچ بول رہا ہے قطعہ نظر اس بات کے کہ وہ حقیقت میں سچ ہی کیوں نا بول رہا ہو تمام ادارے الیکشن کمیشن، عدالتیں، جیو، پارلیمنٹ الغرض ہر وہ شخص جو کپتان سے اختلاف رائے کرے گا وہ ایک بہت بڑا جھوٹا اور نالائق شخص/ادارہ ہوگا پولیس والوں کو تو نشان عبرت بنا دیا جائے گا جو جو کپتان کے نئے پاکستان کو بنانے میں رکاوٹ ڈالے گا اس کو سرے عام پھانسی لگا دی جائے گی اور اس کام کو کپتان خود اپنے نیک ہاتھوں سے انجام دیں گے

3) نئے پاکستان بنانے کے لئے دہشتگردوں سے ناصرف مزاکرات ضروری ہوں بلکہ شہر شہر ان کے دفاتر قائم کئے جائیں گے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اگر کوئی دہشتگرد فوج یا پھر ڈرون حملے میں ہلاک ہوجائے تو اس کی مزمت کی جائے گی اگر ہوسکے تو ایک آدھ دھرنا بھی دیا جائے گا

4) نسخہ عمرانیات کے نئے پاکستان میں ڈیڈھ کروڑ ووٹ لے کر آنے والے وزیراعظم سے استعفٰی لینا بھی شامل ہے اس کے لئے اپنی بہترین ٹیم، چپڑاسی اور ڈاکوؤں کے ساتھ مل کر آزادی مارچ کرنا پڑتی ہے لندن میں ایک کینڈین نیشنل کے ساتھ سازباز کرنا پڑتی ہے پلان A, B, C, D بنانے پڑتے ہیں ہیں پھر دو کروڑ کے کنٹینر میں بیٹھ کر ایک لاکھ موٹرسائیکل کے جھرمٹ میں اسلام آباد پہنچنا پڑتا ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ اسلام آباد صرف چند ہزار پہنچ سکیں وہاں پہنچ کر روز چن چن کر اداروں پر الزامات لگائے جاتے ہیں اگر اس سے بھی بات نا بنے تو پارلیمنٹ، پرائم منسٹر ہاوس، پاکستان ٹیلی ویژن، جیو کے دفاتر پر حملے کئے جاتے ہیں روز اسٹیج پر کھڑے ہوکر تقاریر کرنی پڑھتی ہیں سول نافرمانی کی تحریک چلانی پڑتی ہے ہنڈی کے زریعے بیرون ملک سے پیسے لانے کی تلقین کی جاتی ہے ملک کی اکانامی کو کھربوں کا نقصان پہنچانا پڑتا ہے پانچ دس ہزار کے مجمعے کو لاکھوں کا بتایا جاتا ہے ہر روز ایک نیا جھوٹ بولا جاتا ہے خطے میں اپنے پارٹنرز کی سبکی کی جاتی ہے کھربوں ڈالر کی انوسٹمنٹ کو قرضہ قرار دیا جاتا ہے اور تو اور اگر پانچ سات سربراہان مملکت کے دورے بھی کینسل کروائے جاتے ہیں اور ان پر فخر کیا جاتا ہے مختلف بہانے پیش کئے جاتے ہیں

5) نسخہ عمرانیات کی روح سے صرف پیرا شوٹ صحافیوں کی سچائی کو لکھا اور پڑھا جائے گا اگر پیراشوٹ صحافی دوچار گھٹیا فلموں کا ہدائت کار بھی رہ چکا ہو تو اس کے کہے کو ایمان کا درجہ دیا جائے گا مخالفت کرنے والے صحافیوں کو سوشل میڈیا ٹیم سے عزت افزائی کرائی جائے گی اور دوچار کی آزادی مارچ کے دوران ٹھکائی بھی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں اگر ایک ٹی وی چینل پر روز پتھراؤ بھی کرنا پڑے تو کوئی مزاحکہ نہیں ہر اس شخص کی سوشل میڈیا پر درگت بنائی جائے گی جو نئے پاکستان کے لئے نسخہ عمرانیات سے متفق نہیں ہوگا ان کو پٹواری، ڈالر خور، راہ، سی آئی اے وغیرہ کے القابات سے نوازا جائے گا اگر اتنے پیار سے بھی نہ مانے تو پھر سیدھی سیدھی گالیاں دی جائیں گی

6)  نیا پاکستان بنانے کے لئے ضروری ہے کہ خیبر میں اپنی حکومت قائم رکھی جائے تاکہ وہاں سے لوگوں کو لانے میں آسانی ہو صبح اٹھتے ہی وزیراعلی تمام ممبران اور وزیروں کو فون کرکے بندے لانے کی ہدائت جاری کریں پھر رات کو حاضرین کو مختلف سنگرز کے نغموں پر رقص کرکے دکھائیں صوبے کے تمام کام ٹھپ پڑے رہیں لیکن وہ وزیراعظم کے استعفیٰ لینے پر بضد رہیں باقی تمام صوبوں اور وفاق کے نمایندے بھی دکھاوے کے لئے استعفے جمع کروائیں لیکن اپنی تنخواہ ٹائم پر لینے پہنچ جائیں سول نافرمانی کی تحریک کے باوجود تمام پارٹی عہدےداران باقاعدگی سے ٹیکس اور اپنے بل جمع کروائیں لیکن غریب قوم کو بل جمع نہ کروانے کی ہدائت جاری کریں تاکہ وہ بیچارے مہینوں میٹر لگوانے کے چکر میں زلیل خوار ہوتے پھریں

7) آزادی مارچ سے پہلے لوگوں کے درمیان رہنے اور کھانے پینے کے وعدے کئے جائیں لیکن غریب عوام کو حبس اور بارشوں کے اس سیزن میں مرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے اور خود دوکروڑ کے کنٹینر میں آرام کیا جائے ٹائم پر کھانے پینے کا بندوبست ہو اور جب دل اکتا جائے تو بارہ چودہ گھنٹے کے لئے دوسو کنال کی چھوٹی سی کٹیا میں ورزش کرنے چلے جایا جائے

8) روز رات کو اپنے مخالفین پر بغیر ثبوت کے الزامات کی بارش کردی جائے تمام اداروں کی سبکی کی جائے مختلف افسران کو بغیر ثبوت کٹہرے میں کھڑا کردیا جائے دھمکیاں دی جائیں منتخب نمایندوں، ججز، وکلاء، بیوروکریٹ، پولیس افسران، الیکشن کمیشن، نادرا، FIA, صحافیوں وغیرہ کے خلاف بغیر ثبوت کے چارج چیٹ پیش کی جائے سب کو کرپٹ، ٹیکس چور کہا جائے جبکہ آپ کے اردگرد ایسے لوگوں کا ڈھیر لگا ہو حتکہ آپ کی پارٹی کے 82% ممبران ٹیکس ہی جمع نہ کرواتے ہوں اور جو 18% کرواتے ہوں ان میں سے بیشتر کا اتنا کم ہو کہ وہ شرمندگی سے کسی کو بتانے کے قابل نہ ہوں

نوٹ! اس فضول بکواس کو لکھنے والا ایک ڈاکٹر ہے صحافی نہیں ہے اس لئے گالیاں ڈاکٹر کو دی جائیں... شکریہ

Sunday, 3 August 2014

یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟

تبدیلی ایکسپریس کا آغاز 30 اکتوبر 2011 کو مینار پاکستان کے سائے تلے ہوا کچھ لوگ آج تک تبدیلی کا انتظار کررہے ہیں لیکن میرے نزدیک تو تبدیلی آگئی ہے بلکہ تبدیلی تو اسی دن آگئی تھی جب میاں اظہر صاحب نے اپنے سیاسی یتیموں کے ساتھ تبدیلی ایکسپریس میں سواری کرلی تھی جب ہر اتوار کے اتوار نیٹو سپلائی اور ڈرون حملوں پر دھرنے دئیے جاتے تھے لیکن ان دھرنوں کو نیٹو سپلائی کے راستوں سے دور رکھا جاتا تھا تاکہ کنٹینرز کو گزرنے میں کوئی دشواری نہ ہو یہ تبدیلی کیا کم ہے کہ ان دھرنوں سے کنٹینرز کو گزرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی اور رہی بات ڈرون کی تو جناب اب چھوڑئیے کہاں ہم اور کہاں امریکہ بہادر؟  مینار پاکستان کی سحر انگیز تقریر کے بعد تبدیلی لانے کے لئے ساری جماعتوں کے سیاسی یتیم جوک در جوک تبدیلی ایکسپریس پر چڑھنا شروع ہوگئے اور قوم کو یہ بتایا گیا کہ اگر ان لوگوں کو ساتھ نہ ملایا گیا تو الیکشن کون لڑے گا؟ اس مافیا سسٹم کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے ساتھ بڑے مافیا کو ملا لینا تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟  گاؤں گاؤں شہر شہر جاکر ان پولیٹیکل مافیا کو اپنی پارٹی میں ملایا گیا بڑے بڑے جلسے کئے گئے خود سوچئیے اگر ان کو ساتھ نہ ملایا جاتا تو ان جلسوں، ریلیوں اور دھرنوں کا خرچہ کہاں سے آتا؟ مختلف پروگراموں میں جاکر لکھ کردیا گیا کہ میری پارٹی الیکشن سویپ کرے گی جبکہ بلوچستان اور سندھ میں سرے سے الیکشن کمپین نام کی کوئی چیز چلائی ہی نہ گئی اور کروڑوں روپے لگا کر دو جلسے کئے گئے اور ان کو اپنے پاپولر ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا بیشتر سیٹوں پر امیدوار ہی نہ کھڑے کئے گئے یہ تبدیلی نہیں تو کیا ہے؟ قوم کو یہ یقین دلایا گیا کہ لاکھوں تبدیلی رضاکار پولنگ اسٹیشنز پر موجود ہوں گے جو کہ دھاندلی کرنے والوں کو بلوں سے ماریں گے لیکن الیکشن والے دن تمام تبدیلی رضاکار کہاں گئے اس کا آج تک جواب نہیں دیا گیا؟ یہی تو اصل تبدیلی ہے؟ صرف پنجاب سے درجنوں سیٹوں سے آپ کے امیدواروں کی زمانتیں ضبط ہوجائیں ( ان کی تعداد پچاس سے اوپر ہے) متعدد سیٹوں پر آپ کے امیدوار ہی کھڑے نا ہوں لیکن پھر بھی آپ کے ساتھ تاریخی دھاندلی ہوجائے اور آپ الیکشن سویپ کے دعوے بھی کریں؟  آخر یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟ 
چیف الیکشن کمشنر آپ کی مرضی سے لگے جس کی ایمانداری کے آپ چرچے کریں اور اس بیچارے کی مخالفت کے باوجود آپ کی مرضی کے رئٹرنگ آفیسر لگائے جائیں پھر الیکشن ہارنے کے بعد سارا ملبہ چیف الیکشن کمشنر اور رئٹرنگ آفیسر پر ڈال دیا جائے اس غریب چیف الیکشن کمیشنر کی ساری عمر کی نیک نامی کا بیڑاغرق کردیا جائے یہی تو اصل تبدیلی ہے؟
چیف جسٹس افتخار چوہدری کو قوم کا مسیحا قرار دیا جائے قانون کی حکمرانی قائم کرنے والا قاضی کہا جائے اس کے ہر فیصلے کو قانون اور آئین کی بالادستی کے ساتھ جوڑا جائے اس کی بحالی کے لئے تاریخی وکلا تحریک کا حصہ بنا جائے چیف الیکشن کمشنر کی مخالفت کے باوجود افتخار چوہدری سے عدلیہ سے الیکشن کرانے کا فیصلہ لیا جائے بلکہ رئٹرنگ آفیسرز کو تاریخی اختیارات دلوائیں جائیں پھر الیکشن ہارنے کے بعد اسی افتخار چوہدری پر تاریخی دھاندلی اور فراڈ کا الزام عائد کیا جائے؟ جب آپ یہ بتانے سے قاصر ہوں وہی رئٹرنگ آفیسرز خیبرپختون میں بھی تھے وہاں دھاندلی کیوں نہ کرسکے؟ چیف جسٹس کا دست راست جج خیبر کا الیکشن کمشنر تھا وہ دھاندلی سے آپ کو کیوں نا ہرا سکا؟ یہی تو حقیقی تبدیلی ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟
جب آپ قوم کو یہ بھی نہ بتائیں کہ "الیکشن ٹربیونل دھڑا دھڑ آپ کی پٹیشن پر فیصلے سنا رہا ہے بلکہ آپ کی طرف سے پنجاب میں دائر کی گئی بیشتر انتخابی عزداریوں کا فیصلہ ہوچکا جن میں سے ایک بھی آپ کے حق میں نہ ہوا جن پر فیصلہ آنا باقی ہے وہ الیکشن ٹربیونل سے زیادہ امیدواروں کا قصور ہے جنہوں نے عدالتوں سے رجوع کرلیا" ( 41 کے قریب فیصلے آچکے ) جب آپ کہیں کہ ہمیں انصاف نہیں مل رہا تو قوم کو یہ بھی نہ بتائیں کہ ساری دنیا میں انصاف کا یہی طریقہ ہے الیکشن کمیشن جائیں اگر فیصلے سے مطمن نہ ہوں تو عدالت جائیں اگر پھر بھی کوئی کمی رہ جائے تو پارلیمنٹ کے زریعے آئین میں ترامیم کرائیں؟ جب آپ مختلف چینلز اور جلسے جلوسوں میں یہ کہیں کہ حکومت ہمیں انصاف نہیں دے رہی لیکن آپ قوم کو وہ گیدڑ سنگی نا بتائیں کہ حکومت کس طریقے سے دو اداروں الیکشن کمیشن اور عدالتوں کے کام میں مداخلت کرے کہ آپ کو کوئی انوکھا انصاف میسر آسکے جس کے لئے لاکھوں پاکستانی عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں؟  یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟
پاکستان کے سب سے بڑے چینل پر سب سے زیادہ کوریج حاصل کی جائے ان کے ساتھ مل کر سیلاب زدگان کے لئے دنوں تک چندہ مہم چلائی جائے الیکشن والے دن ہسپتال کے باہر سے آپ کے لئے پروگرام کئے جائیں آپ کی تصویر والے اسکارف پہنے لوگ الیکشن والی رات ٹی وی پر آکر بیٹھیں اور ووٹ مانگیں "یورپین یونین کی رپورٹ کے مطابق آپ کی پارٹی کو اس چینل نے سب سے زیادہ کوریج دی جو دو بڑی پارٹیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی" لیکن اچانک الیکشن ہارنے کے بعد آپ کو خواب آئے کہ یہ چینل تو میرے خلاف سازش کررہا تھا؟ جب آپ سخت سوال کرنے پر اینکر کی چینل سے چھٹی کروا دیں جب آپ ایک صحافی کو صرف اس لئے دشمن ڈیکلیئر کردیا ھائے کہ اس نے  سوال اٹھائےل؟  یہ تبدیلی نہیں تو کیا ہے؟
دنیا کے بڑے بڑے ادارے جیسے "یورپین یونین آبزرور، کامن ویلتھ، HRCP, نیپال الیکشن کمیشن، فافن، گیلپ وغیرہ الیکشن 2013 کو تاریخی ریٹنگ دیں پاکستان کی تاریخ کا شفاف ترین الیکشن قرار دیں اور اس کے مقابلے میں الیکشن 2002 اور 2008 کو بدترین ریٹنگ ملے لیکن ان الیکشن کے رزلٹ کو آپ مان لیں لیکن 2013 کے الیکشن کو فراڈ قرار دیں کیونکہ وہ ڈکٹیٹر کے نیچے ہوئے تھے اور یہ تاریخی آئینی اصطلاحات کے بعد"؟ چلیں اپنے پارٹی الیکشن میں ہونے والی تاریخی دھاندلی پر ہی کوئی ایکشن لیا ہوتا جب جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے پوری پارٹی پر قبضہ کرلیا؟ لیکن اگر یہ سب کچھ کر لیتے تو تبدیلی کیسے آتی ؟
جن لوگوں کو آپ نیشنل ٹی وی پر آکر چپڑاسی کا درجہ دیتے ہوں اور کہیں کہ اللہ نہ کرے کبھی آپ کو ان جیسی سیاست کرنی پڑے جن لیڈروں کو آپ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ڈیکلیئر کریں لیکن اپنے پولیٹیکل benefit کے لئے ان کے ساتھ ہاتھ ملا لیں اس سے بڑی تبدیلی کیا کبھی آپ نے دیکھی یا سنی؟ 
یہ جانتے بوجھتے کہ ووٹوں کی thumb verification جعلی سیاہی کی وجہ سے ناممکن ہے اور اس حکومت کا اس کرپشن سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا جواب چئیرمین نادرا، الیکشن کمیشن یا پھر PCISR کے پاس ہے کہ آخر کس کی غلطی ہے کون کون کرپشن میں حصہ دار ہے؟ لیکن جانتے بوجھتے سارا الزام منتخب حکومت پر ڈال دو اپنے پولیٹکل فائدے کے لئے؟ جب آپ کو پتہ ہو کہ نگران سیٹ اپ پورے ملک میں پیپلزپارٹی کی مرضی کا آیا لیکن پھر بھی آپ منتخب حکومت پر 35 پنکچر کا الزام لگائیں اور وعدہ کے باوجود دھاندلی ٹیپ غریب عوام سے شئیر نہ کریں؟ یہ تو چھوڑیں فوجی بریگیڈئر پر دھاندلی کا الزام لگایا جائے اور لیکن اس بریگیڈئر کا نام صیغۂ راز میں رکھا جائے؟  یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟
لاکھوں ووٹ لینے کے باوجود بلکہ ووٹوں کے اعتبار سے پاکستان کی دوسری بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہونے کے باوجود مسائل کو پارلیمنٹ میں حل کرنے کی بجائے سڑکوں پر حل کرنے کی ٹھان لی جائے اپنے ووٹر کو یہ نا بتایا جائے کہ اگر ایک دو لاکھ لوگ پارلیمنٹ کے سامنے بٹھانے سے مسائل حل ہوں گے اور منتخب حکومتوں کو چلتا کرنے کی روائت نے جنم لے لیا تو یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا؟ جب آپ یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ ان بیچارے کاروباری حضرات اور شہریوں کا کیا قصور جو دنوں تک آپ کے دھرنے سے ذلیل ہوں گے اور کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کریں گے؟  کل کو کوئی بھی گروہ یا پھر سیاسی پارٹی پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے اور کہے کہ مطالبات ماننے تک نہیں اٹھیں گے تو پھر اس مملکت خداداد کا کیا انجام ہوگا؟ سب سے بڑھ کر ان لوگوں کا کی قصور جنہوں نے آپ کو لاکھوں ووٹ دئیے تاکہ آپ ان کے مسائل حل کروانے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالیں؟  سارے سوالوں کا جواب جانتے ہوئے بھی جواب نہ دینا تو اصل تبدیلی ہے؟
جب آپ ٹی وی چینل پر آکر خود یہ مانیں کہ آپ کے جیتے ہوئے صوبے میں انوسٹمنٹ کم ترین سطح پر ہے حالانکہ الیکشن سے پہلے آپ نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ آپ کی حکومت آتے ہی اوورسیز پاکستانی اپنے خزانوں کے منہ کھول دیں گے؟ جب آپ خود مانیں کہ خیبر میں سکولوں کی حالت بری ہے آپ کچھ نہیں کرسکے؟ ڈویلپمنٹ فنڈ استعمال ہی نہ ہوسکا؟ حالانکہ آپ نے تو خود کہا تھا کہ تمام پالیسی پیپر تیار ہیں؟ ملک کی سب سے اچھی ٹیم آپ کے پاس ہے لیکن پھر دوسری ہی سانس میں یہ بھی مان گئے کہ حکمران جماعت کی ٹیم ہماری پارٹی سے زیادہ تجربہ کار ہے؟ زرعی صوبہ ہونے کے باوجود اس کی زراعت کا برا حال ہو؟ وعدے کے مطابق بلدیاتی الیکشن کا چودہ مہینے کے بعد بھی کوئی اتا پتہ نہ ہو؟  یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟
جب ہر اس شخص، صحافی یا پھر میڈیا ہاوس کو جو آپ پر تنقید کرے یا پھر آپ کی سیاست سے متفق نہ ہو کو 'امریکی ایجنٹ' ڈالر خور'  'غدار' 'حکومتی ایجنٹ' 'بکا ہوا' کہا جائے؟ جب آپ کے ہزاروں سوشل میڈیا جہادی آپ سے سیاسی اختلاف کرنے والوں کی تکا بوٹی کردیں گالیوں کے سمندر میں آپ کے مخالفوں کو بہانے کی کوشش کی جائے؟ میری سمجھ سے باہر ہے کہ اور کس طرح کی تبدیلی آپ لوگ چاہتے ہیں؟
جب ملک میں کوئی بے اطمینانی نہ ہو، قوم حکومت کو وقت دینے کو تیار ہو باوجود اس کے حکومت کی کاکردگی بھی کوئی توپ قسم کی نہیں ہے لیکن امید کی ایک کرن ہو کہ شائد پانچ سال ملیں تو یہ حکومت اچھا پرفارم کرپائے؟ جب انٹرنیشنل ادارے بھی اکانامی کے بارے میں کچھ اچھی خبریں سنا رہے ہوں، پورا ملک دہشتگردی کی جنگ میں لگا ہو، آپ کے صوبے میں دس لاکھ IDP بیٹھے ہوں لیکن آپ کا زور وفاقی حکومت کو گرانے پر ہو، جب دس سال تک ملک میں دہشتگردی کرنے والوں کی آپ حمائت کرتے رہے ہوں جنہوں نے ہزاروں لوگوں کو شہید کیا ہو آپ اب بھی ان سے مزاکرات کے لئے تیار ہوں لیکن حکومت سے مزاکرات سے انکاری ہوں؟ یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے؟

Sunday, 20 July 2014

Crumbling Institutions

                                                              Crumbling Institutions

Strong and Vibrant institutions build a healthy and a Democratic state where some injustices can always occur but large majority of people enjoy rule of law and basic facilities of life. Look at our neighborhood India who despite contributing 33% to world poor,  stories of rampage corruption, falling very high on TIP corruption index, more than half of their population living below poverty line, enjoying uninterrupted democracy and continuation of system, suffers from long hours of Load Shedding unlike Pakistan where democracy already been  interrupted four times but with all these injustices in India one talk about Inquilab, Tsunami March, Dictators etc.  Do we ever wonder why it is so?  The answer to the question is very simple that they developed institutions which work independently and freely without any strings attached to their performance, just look at their CBR, can raid any influential figures house anytime and nobody dare argue with their power, their election commission work independently without being tool of a particular party or Mafia No one ever raised an eyebrow on their performance, you hardly see any Dhandli rhetoric after elections.. Their Parliament can question people which is almost a punishable act in our land of pure, their court's hardly been accused of tilting towards different groups, list is endless. 

So question is what went wrong in our country? Why couldn't we build institutions leading to a  dynamic and spirited society? One argument may be that we were struck with Marshall Laws decades after decades so democracy were never allowed to take it's root and there was not enough time to assemble efficient systems? Yes dictators and Kingdoms thrive and feed on week systems, example are in abundant in our Muslim countries Egypt, Iraq, Libya, Saudia etc but weak systems have finally taken it's tool on them, mostly are struck with civil war in their countries, hundreds of Muslims dying daily, reaping the rewards of their rulers, stuck in a battle which they never wanted, going trough a turmoil and agonising era of destruction!!!!
Now let's come back to our country, let's not talk about the unprecedented damage caused by respective dictators or horrendous last five years of civilian democracy, let's talk about last 13 month's of this government, did they even remotely tried to lay foundation of institutions? The answer is loud and clear NO  !!!
Now let me explain why I say that this government is no different than the previous rulers as far as building institutions despite the claims that there are no mega scandals in last 13 months as we have seen in last era, despite claims of initiating mega projects which this country never witnessed before,  even if we admit to these fact but does this made a common man's  life more easier? The answer is again a big NO.
Just look around how many institutions are either run by a non-existent Head or very least an Acting Head or Head with political affiliation? So how on earth a sane person can even remotely think of building a institution?  Election Commissioner resigned soon after the GE, Where is the new chairman? Had this government acted promptly and appointed an honest head under newly amended  constitution, they might have averted the crisis they are facing right now from opposition Azadi March?  But more importantly they would've laid foundation of a institution, the permanent chairman would've got ample time to fix this mess before the next GE. Similarly Nadra head was removed in a bizarre fashion, again a key person that would've avoided the mess the government is in right now. Let's suppose for a minute that he was rightly removed but where the hell is the new Nadra Chairman?  Chairman PCB post has become a laughing stock in fact let me put it that way an embarrassment for the whole Nation, Key members of ICC snub our Chairman during the meetings.. The post has become a social media joke in Pakistan. Another example is Chairman PEMRA, Last few months we have seen the worst of Pakistan Media, different Media house's hurling allegations against each other of bizarre nature even the charges of blasphemy against few channels. Now you honestly tell me if we had a Strong and prudent Pemra body with a honest and upright chairman heading it, most of this dirt and filth against each other would've been stopped from the very beginning had there been a powerful PEMRA body headed by a strong willed chairman and culprits would've been punished there and then. Countless examples can be quoted here, boards of Pepco still not complete, different organisations waiting for their heads, just recently State Bank head appointed while all important SECP Chairman post still vacant.

Now let me compare this ineptness with few organisations where heads been appointed timely, now they are giving good results though still far far away from excellence, examples are PTA Chairman who just recently completed a successful 3/4 G auction, not a finger been raised on the process in fact every newspaper and critic was appreciative of the effort. Other example is Head of Privatisation Zubair Ahmad who has done a remarkable remarkable job, kick starting the privatisation after years of delay, completing highly successful initial transactions of UBL, PPL in fact fetching higher prices than the base price asked by Government. Now planning to privatise 9 different organisation, this year expected to fetch 2.5-3 billion dollar money to National Exchequer. Similarly Railway Minster assembled an excellent team with efficient Railway Chairman and Board Of Directors all from Railway we can witness the results, revenue touched 25.5 billion rupees in 2013-14.

So in a nutshell Germany and Japan rose from ashes after War when their countries were brought down to the ground by madness of War, we must ponder, Why Germans became the largest economy of Europe?  Why Japan is second largest economy of Asia? Answer is very simple they have built efficient systems backed by robust institutions. Democratic rulers often complain about dictators interfering and derailing democracies but what they fail to understand that if not largely it is partly their fault as well they rule in a colonial fashion, never let institutions grow, never give them that freedom so they can work independently without strings and interference. Rulers must understand these institutions once built will automatically come to their rescue once dictators try to topple their regimes but at the same time a strong institution wouldn't be part of their corrupt practices so it's a knife edge our rulers sooner or latter had to decide the fate of this bruised and battered Nation which is a victim of successive dictatorial regimes and democratic regimes working in the mask of dictators!

Saturday, 24 May 2014

میٹرو سیاست

پاکستان کی بدقسمتی کہیے یہ پھر curse جہاں دنیا میں ترقیاتی کاموں کے لئے مختلف ریاستوں کے درمیان ایک مقابلہ ہوتا ہے میگا پراجیکٹس سے ملک کی ترقی اور تنزلی کا اندازہ لگایا جاتا ہے وہاں پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے جب بھی ترقیاتی کام شروع ہوتے اس کو حکومت وقت کی ٹانگیں کھینچے کا موقع سمجھا جاتا ہے سالوں بعد پاکستان میں میگا پراجیکٹس کی بنیاد رکھی جارہی ہے موٹروے، ڈیمز، بڑے بجلی گھر، ریلوے لنک وغیرہ شامل ہیں ان بدقسمت منصوبوں میں سے ایک اسلام آباد- راولپنڈی میٹرو بس سروس ہے جس کی مخالفت کرنے والوں میں اسد عمر صاحب بھی شامل ہیں جو پاکستان کے سب سے مہنگے executive رہ چکے ہیں اور اپنی فرم کو ملٹی بلین ڈالر empire بنانے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے لیکن جب سے سیاست میں آئے ہیں ہر منصوبے اور حکومت کی ہر اکنامک پالیسی کی مخالفت اپنا سیاسی فریضہ سمجھتے ہیں

میٹرو بس سروس جس کا آغاز برازیل میں 1974 میں ہوا اب دنیا کے 166 شہروں میں انتہائ کامیابی سے کام کررہی ہے تقریباﹰ 27-30 ملین لوگ روزانہ اس پر سفر کرتے ہیں مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سروس کیونکہ کم لاگت میں تیار ہوجاتی ہے اس لئے سب سے زیادہ Latin America کے شہروں میں چلتی ہے اگر اسد عمر کی لاجک سے چلا جائے تو پھر تو یہ ملک پہلے امیر ہونے کا انتظار کرتے رہتے اور  پھر لاکھوں لوگوں کے سفر کا انتظام کرتے؟ 

میٹرو پہلے ہی لاہور شہر میں انتہائ کامیابی سے چل رہی ہے جہاں ہر روز تقریباﹰ  ایک لاکھ تیس لوگ اس پر سفر کرتے ہیں اور لاکھوں سٹوڈنٹس، مزدور، نوکری پیشہ لوگ صرف 20 روپے میں اپنی منزل پر پہنچتے ہیں کیا اسد عمر صاحب جانتے ہیں کہ کتنا ٹائم بچتا ہے؟ کتنے لوگ حادثوں سے بچتے ہیں؟ اس غریب ملک کے کتنے کروڑ ماہانہ پٹرول کی مد میں بچتے ہیں؟   اسد عمر صاحب جانتے ہیں کہ ایک زمانے میں ان کے لیڈر اسے جنگلا بس کہتے تھے کیا حال ہوا لاہور میں ان کی پارٹی کے ساتھ؟  کیا اسد عمر صاحب جانتے ہیں تب بھی بڑے الزام لگے کہ اس پر 80 ارب خرچ ہوں گے؟ کسی نے کہا 76 ارب خرچ ہوں گے؟  لیکن یہ صرف 28-30 ارب میں مکمل ہوگئی کیا اسد عمر صاحب نے اپنے لیڈر سے پوچھا کہ ان الزامات کا کیا ہوا؟ کیا اسد عمر صاحب جانتے ہیں کہ ایسا منصوبہ ترکی جیسے ملک میں مکمل ہونے میں 27-30 مہینے لگے؟  کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ترک لیڈر اس منصوبے کے افتتاح کے لئے پاکستان آئے تو صرف دس مہینے میں اس منصوبے کے مکمل ہونے پر دنگ رہ گئے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس غریب قوم کے اس مد میں کتنے ارب بچ گئے؟

اب آتے ہیں اسلام آباد - راولپنڈی منصوبے کی طرف جو کہ پاکستان کے دو بڑے شہروں کو ملانے جارہا ہے اس کی لاگت کا تخمینہ 44 ارب روپے لگایا گیا ہے تقریباﹰ 140-150k لوگ روزانہ اس سہولت سے مستفید ہوں گے  اب ایک دفعہ پھر اس منصوبے کو دس مہنیے میں مکمل کرنے کی ٹھانی گئی ہے اس پر دن رات کام شروع ہوگیا ہے اور اندازوں کے مطابق ایک دفعہ پھر یہ ریکارڈ مدت میں مکمل ہوجاۓ گا جو کہ ایک اعزاز ہے پنجاب حکومت اور پاکستان کے پاس اتنی قلیل مدت میں منصوبے مکمل کرنے کا

آئیے اب اعتراضات کی طرف سب پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ ایک غریب ملک اس عیاشی کو افورڈ نہیں کرسکتا اس رقم کو ہیلتھ اور ایجوکیشن کے منصوبوں پر خرچ کرنا چائیے جناب 18 ترمیم کے بعد ہر صوبہ اپنے وسائل استعمال کرسکتا ہے کس نے روکا ہے اسد عمر صاحب کی پارٹی کو کہ اپنے وسائل اپنی مرضی سے استعمال کرے؟ پنجاب تو پہلے ہی اپنے بجٹ کا کثیر حصہ ہیلتھ اور ایجوکیشن پر خرچ کررہا ہے کیا ابھی کچھ دن پہلے کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کی شرح خواندگی 80% پر پہنچ گئی اور KPK کی گزشتہ برس 2% اور کم ہوکر 62% پر آگئی ہے اسد عمر صاحب جانتے ہیں کہ میگا پراجیکٹس شروع کرنے سے سالوں بعد LSM نے پرفارم کرنا شروع کیا ہے اور 5% سے زیادہ گروتھ ہے؟ سیمنٹ dispatches میں رواں سال 7% کے قریب اضافہ ہوا؟ کیا جناب جانتے ہیں کہ سالوں بعد پاکستان میں بڑی گاڑیوں کی صنعت فروغ پارہی ہے جس میں ٹرک، لوڈر، بسیں وغیرہ شامل ہیں؟ کیا جناب جانتے ہیں کہ لاکھوں لوگ construction کی صنعت سے وابستہ ہیں اور درجنوں انڈسٹریز اس سے منسلک ہیں؟ کیا اسد عمر صاحب نے کبھی "کمیٹی چوک سے فیض آباد" سفر کیا ہے جہاں پر دھوئيں اور شور شرابے کا ایک سیلاب ہے؟ اس روٹ پر چلنے والی ویگن پر بیٹھ کر سفر کرنے سے بندے کا پورا جسم اکڑ جاتا ہے؟ بندہ صبح صبح اتنا جھنجلا جاتا ہے کہ دفتر یہ پھر سکول کالج پہنچتے تک آدھا خرچ ہوجاتا ہے؟ کتنے ہی ماؤں کے چشم و چراغ ایکسیڈنٹ کی نظر ہوجاتے؟ گھر کا زیادہ تر بجٹ کرایوں میں ہی خرچ ہوجاتا؟

ایک اور اعتراض کہ اس میٹرو کا اسلام آباد سیکشن آپ 8 ارب میں مکمل کرسکتے ہیں جس کے لئے آپ ایشین ڈویلپمنٹ بنک رپورٹ کا حوالہ بھی دیتے ہیں جناب کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ یہ منصوبہ آٹھ ارب میں KPK میں مکمل کرتے جہاں حال ہی میں 630 ملین ڈالر کی لاگت سے ٹرین چلانے کا MOU کیا گیا کیا KPK جیسا غریب صوبہ اس کو افورڈ کرسکتا؟  کیا KPK میں آپ لاہور طرز کی ٹرانسپورٹ کمپنی پہلے لانچ کرتے تو زیادہ بہتر نہ ہوتا جس کے زریعے پہلے صرف بس سروس کا کیا جاتا؟   کیا اتنے زیادہ پیسے جنگ زدہ صوبے کے ٹرین سروس میں جھونک دینا انصاف ہے؟  کیا ہزاروں تباہ شدہ سکول پہلے تعمیر نہیں ہونے چائیے؟ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ پہلے آپ KPK کو ہیلتھ اور ایجوکیشن میں پنجاب کے قریب لانے کی کوشش کرتے پھر کچھ اور سوچتے؟  کیونکہ لاہور اور راولپنڈی میں درجنوں ہسپتال اور یونیورسٹیاں ہیں بلکہ یہ کہنا چائیے کہ پاکستان کی بہترین facilities یہاں موجود ہیں

آخر میں یہ الزام کہ میٹرو کا اسلام آباد سیکشن آٹھ ارب میں بن سکتا تھا پھر چوبیس ارب کیوں خرچے جارہے ہیں؟  میں اسد عمر صاحب کو کہوں گا کہ فوراﹰ  کرپشن کا یہ میگا اسکینڈل لے کر سپریم کورٹ کا رخ کریں اور ن لیگ کو ایکسپوز کردیں جس طرح یہ پارٹی پیپلزپارٹی کے خلاف کئی کیسسز لے کر سپریم کورٹ گئی تھی؟ پھر ایک بہت بڑے ماہر معاشیات شیخ رشید کا الزام ہے کہ لوگوں کے کاروبار تباہ ہوگئے لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے؟ لیکن جناب ابھی تک کتنے جلوس نکلے اس کے خلاف؟  جہاں تک کاروبار کی بات ہے تو لاہور میٹرو نے ثابت کیا کہ یہ ساری وقتی مسائل ہوتے ہیں اب شیخ صاحب لاہور آکر دیکھیں کس طرح لوگ خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں؟

سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اس بات پر روتے نظر آتے ہیں کہ میٹرو پر construction work کی وجہ سے وہ دفاتر سے لیٹ ہوجاتے ہیں ان کی بڑی بڑی گاڑیاں ٹریفک میں پھنس جاتی ہیں ایک برگر نے تو ایک اخبار میں بلاگ بھی لکھ ڈالا کہ کیونکہ اسلام آباد میں بیشتر لوگوں کے پاس گاڑیاں ہیں پھر میٹرو کی کیا ضرورت؟ 

سب سے بڑا مسلہ جو اس منصوبے کے ساتھ منسلک ہے وہ میرے خیال میں ماحولیات کا ہے اسد عمر صاحب اور شیخ رشید صاحب کو چائیے تھا کہ دن رات ایک کردیتے ایک ایک کٹے ہوئے درخت بچانے کی کوشش کرتے لیکن ہائے ری قسمت اس سے لوگوں کی سانس تو بہتر ہوگی لیکن سیاست کو کیا فائدہ ہوگا؟